• تاریخ: 2011 ستمبر 16

سوال: اسلام عشق اور زن و مرد کے درمیان جنسی تعلقات کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے ؟


           


۱۔ (یاایّھا الّذین امنوا انّما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون*انّما یرید الشیطان ان یو قع بینکم العداوۃوالبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکراللّہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون)(مائدہ ۹۰۔۹۱)
ایمان والو !شراب ،جوا ،بت ،پانسہ ،یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے پرہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو ۔شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جو ے کے بارے میں تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرے اور تمھیں یاد خدا اور نماز سے روک دے توکیا تم واقعاًرک جاؤ گے؟
جواب:ازدواج کے ماحول سے باہر ،(جیسا کہ بیان ہوا) عاشقانہ تعلقات، خواہ آمیزش کے لئے ہوں یا اس کے مقدمات کے طور پر ، اسلام میں ممنوع اور حرام ہیں ۔اور بنیادی طور پر جاننا چاہئے کہ اسلام میں حرام کا فلسفہ طبقات کی آزادی کو سلب کر نے کا مسئلہ یا دوسروں کا حق چھیننا اور ظلم کر نا نہیں ہے ۔البتہ اگر زن ومردکو اپنی مر ضی سے کسی کے حقوق میں رکاوٹ اور ظلم کئے بغیر بھی آزادی کے ساتھ ہر کام انجام دینے کی اجازت ہو تو اس میں اور زنا کے اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے، ایسے اعمال ممنوع ہیں اور اس حساب سے لواط بھی زنا کے مانند ہے ۔

ماخذ:علامہ طبا طبائی، اسلام اور آج کا انسان ,مترجم: سید قلبی حسین رضوی

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved