خبریں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے 189 ویں اجلاس کا اختتامی بیان

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے 189 ویں اجلاس کا اختتامی بیان

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے اختتامی بیان میں نائیجیریا، کوموروس اور بحرین میں دینی رہنماؤں کو دھشتگردی کے ذریعے مٹانے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے عالم اسلام اور پیروان اہل بیت(ع) کو پہلے سے زیادہ ہوشیار ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن هدی للناس و بینات من الهدی و الفرقان ... (بقره/ 182)
پروردگار عالم کی توفیق اور امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی توجہ کے زیر سایہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا 189 واں اجلاس ماہ شعبان کے اخری ایام اور ماہ مبارک رمضان کے آستانہ میں حرم کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے جوار میں منعقد ہوا۔
یہ اہم اجلاس جو شمسی سال 1400 کے آغاز پر اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تاسیس کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا اس میں سپریم کونسل کے ممبران نے عالم اسلام اور خصوصا عالم تشیع کے اہم ترین مسائل پر تبصرہ کیا اور نئے سال میں انجام پانے والے امور کی منصوبہ بندی میں اہم ترجیحات پر غور و خوض کیا۔
اس اجلاس کے آغاز میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کی اہم شخصیات جو گزشتہ ایک دو سال میں اس دار فانی سے چل بسیں جیسے آیت اللہ امینی، آیت اللہ مصباح یزدی اور آیت اللہ تسخیری، ان کی یاد کو تازہ کیا گیا اور ان کے آثار جو اسلام، شیعت، وحدت اور تقریب کی بولتی زبان تھے ان کی قدردانی کی گئی۔
اس اجلاس کے آخر میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے پیروان اہل بیت(ع) کے تازہ ترین واقعات کے حوالے سے درج ذیل نکات میں اپنا موقف بیان کیا:
۱۔ اسمبلی کی سپریم کونسل اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کے نوروز کے بیان کی حمایت نیز اس نظام کو ماضی سے زیادہ مستقبل میں تحفظ فراہم کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کرنے کا اعلان کرتی ہے وہ بھی ایسے حالات میں جب ایران کے خلاف عالمی پابندیاں اپنے عروج پر ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ان تمام حالات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی حقیقی اور مجازی فضا میں اہل بیت(ع) کی ثقافت اور تعلیمات کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔
۲۔ اسمبلی کی سپریم کونسل کے ممبران نے اسمبلی کی طویل المیعاد اور نظریاتی تبدیلی کی دستاویز کی تالیف اور منظوری کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی علاقائی اور عالمی حساس حالات میں پیروان اہل بیت(ع) کے عالمی سماج پر براہ راست گہرے اثرات ڈالنے کے لیے دائمی کردار ادا کرے۔
۳۔ سپریم کونسل کے ممبران ماہ مبارک رمضان کی آمد پر قرآن کریم کے عظیم مقام اور مرتبے نیز پیغمبر رحمت حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کی عظمت کو پہچنوانے میں کوشاں رہے جنہیں مغربی دنیا نے اس کے باوجود کہ دینی مقدسات کی بے حرمتی غیر قانونی ہے آزادی اظہار کے بہانے سے ہمیشہ حملے کا نشانہ بنایا، سپریم کونسل عالم اسلام اور پیروان اہل بیت (ع) سے اپیل کرتی ہے کہ پہلے سے زیادہ ہوشیاری اور بیداری کے ساتھ اپنے مقدسات کو تحفظ فراہم کریں۔
۴۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی بین الاقوامی میدان میں اپنی ثقافتی اور تبلیغی فعالیتوں کی چوتھی دہائی کے آغاز میں عقلانیت، معنویت، کرامت، عدالت، مزاحمت نیز وحدت اور اخوت کے مفاہیم پر زور دیتی ہے اور انہیں مسلمانوں کی ان مشکلات جو خالص محمدی اسلام کے رحمانی پہلو سے دوری اور جعلی، انحرافی اور بدعتوں سے لبریز اسلام کی پیروی کا نتیجہ ہیں کے حل میں کلیدی نکتہ سمجھتی ہے، نیز پیروان اہل بیت (ع) کو عترت رسول (ص) کے خوبصورت کلام سے آشنائی اور دیگر عوام کو بھی ان سے آشنا کرنے کی تاکید کرتی ہے۔
۵۔ سپریم کونسل کے ممبران پیروان اہل بیت(ع) کی حالیہ صورتحال، عالمی صہیونیت اور استعماری طاقتوں کے روز بروز بڑھتے دباؤ، کمزور اور مظلوم عوام خصوصا یمن، بحرین، شام، افغانستان، پاکستان، کشمیر، میانمار، نائیجیریا وغیرہ پر عبرانی، عربی اور وہابی جماعتوں کی حمایت سے ہونے والے ظلم و ستم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی قانونی کمیشنوں خصوصا بین الاقوامی اسلامی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان ممالک کے شہریوں کے حقوق کی پامالی کو رکوانے کی کوشش کریں۔
۶۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل علماء، حوزات علمیہ اور اسلامی یونیورسٹیوں کے اساتید سے سنجیدہ توقع رکھتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گہرائی اور گیرائی کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضا پیدا کرنے میں اہل بیت(ع) کے کردار کو بیان کریں اور اس میدان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کاوشوں کو پیروان اہل بیت (ع) کے درمیان ایک علمی محوریت کے عنوان سے مورد توجہ قرار دیں۔
۷۔ اسمبلی کی سپریم کونسل طفل کش صہیونی ریاست کے اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے منصوبوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور فلسطین کے طاقتور اور مظلوم عوام کی انتھک مزاحمت اور استقامت کے ساتھ اظہار حمایت کرتے ہوئے دنیا کے حریت پسندوں سے ان کی حمایت کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب نیتن یاہو کی فاسد اور ڈکٹیٹر حکومت سے خود اپنے عوام بھی بے حد ناراض ہیں اور مخالف سیاسی گروہوں نے ان کی ناک میں دم کر رکھا ہے اور ان کی کھوکھلی حکومت کے ستون لرزتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ انشاء اللہ پروردگارعالم کی مدد سے عالمی یوم القدس کے موقع پر تمام مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں کے ذریعے نکالی جانے والی ریلیوں سے غاصب ریاست کی نابودی مزید قریب ہو جائے گی۔
۸۔ سپریم کونسل کے ممبران عالمی سماج کو بحرین اور فلسطین کی جیلوں میں کورونا کی سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ یمن میں خوفناک اور دردناک غیر انسانی صورتحال اور سعودی اتحاد کی طرف سے جاری چھ سال کی وحشیانہ جارحیت کے بارے میں سختی سے متنبہ کرتے ہیں اور یمنی گروہوں کے مذاکرات اور معاہدوں کو نتیجۃ خیز بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۹۔ اسمبلی کی سپریم کونسل آخر میں نائیجیریا، کوموروس، بحرین، سعودی عرب، پاکستان، تاجکستان اور دیگر ممالک میں مذہبی رہنماؤں کے بتدریج قتل اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کے جسموں کے خاتمے کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر ادیان کے علماء اور بزرگان سے اپیل کرتی ہے کہ عالمی امن اور صلح کے خلاف انجام دئیے جانے والے حملوں کے مقابلے میں خاموش نہ بیٹھیں اور مجرموں، ستمگروں اور ظالموں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کی غرض سے چارہ جوئی کریں۔
واللہ سمیع علیم
سپریم کونسل برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے 114 پہلے قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا: تمام مبلغین، اسمبلی کے قابل قدر اراکین، تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے گزارش ہے کہ اس قرآنی مقابلے کے انعقاد میں بھرپور تعاون فرما کر دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی ثقافت کو رواج دینے میں بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں۔   
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدُ للَّه و سُبحانَکَ؛ اللَّهُمَّ صلِّ علی محمدٍ و آلهِ مظاهر جمالِک و جلالِک و خزائنِ اسرارِ کتابِکَ الذی تجلّی فیه الأَحدیّةُ بِجمیعِ أسمائکَ حتّی المُسْتَأْثَرِ منها الّذی لا یَعْلَمُهُ غَیرُک؛
قالَ رسولُ اللَّه صلَّی اللَّه علیه و آله و سلَّم: *انّی تارکٌ فیکُمُ الثّقلَیْنِ کتابَ اللَّهِ و عترتی أهلَ بیتی؛ فإِنَّهُما لَنْ یَفْتَرِقا حَتّی‏ یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوضَ. پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی مبارک زندگی کے دوران اور خصوصا اپنی عمر کے آخری ایام میں مسلمانوں کو دو عظیم چیزوں کی طرف متوجہ کیا اور انہیں قرآن کریم اور اپنی عترت (اہل بیت) سے متمسک رہنے کی خاص سفارش کی اور فرمایا کہ انسان کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں کی پیروی میں رہے۔
آج ایسے دور میں جب دین اسلام کے احیاء کا دور ہے اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو قرآن اور عترت سے دور کرنے یا ان کے مابین تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ایسے دور میں ان دوگرانقدر چیزوں یعنی قرآن اور اہل بیت(ع) سے تمسک کرنا انتہائی اہم اور ضروری ہے جس کی خود رسول اسلام نے بھی وصیت فرمائی ہے۔
امت اسلامیہ کی پرنشیب و فراز تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ختمی مرتبت کی اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان دوگرانقدر چیزوں سے تمسک کیا اور انہیں اپنا مشعل راہ بنایا تو انہیں علمی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ہر میدان میں فتوحات حاصل ہوئیں اور جب ان سے غفلت کا شکار ہوئے اور ان دو قیمتی چیزوں کو رہا کیا تو سوائے پشیمانی، جمود، ظلم کا غلبہ، غربت اور بدحالی کے کچھ نصیب نہیں ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کو فخر ہے کہ اس نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کہ جو کلام خدا کے حقیقی مفسر اور ترجمان ہیں اور انی تارک فیکم الثقلین کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کی بقا کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں ان کے نورانی راستے کا اتباع کرتے ہوئے پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی اقدار کو احیاء کرنے اور الہی تعلیمات کو عام کرنے میں بھرپور جدو جہد کر رہی ہے۔
لہذا ماہ مبارک رمضان کہ جو قرآن کی بہار ہے اس میں حقیقی معنی میں قرآنی ثقافت کو دنیا کے کونے کونے میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام ہونا چاہیے قرآن کریم کے حوالے سے متنوع اور دلچسپ پروگرام کی منصوبہ بندی کی جانا چاہیے تعلیم قرآن اور تحقیق سے لے کر مختلف قرآنی پروگراموں کو جوانوں اور نوجوانوں کے لیے پرکشش شکلوں میں قرآنی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جیسے آرٹ اور میڈیا پروڈکٹس کی تیاری، گھر اور معاشرے میں قرآنی حلقوں کا قیام، قرآن خوانی اور تلاوت کے جلسات کا انعقاد، مختلف مقابلے، قرآن پر مبنی تقاریر اور لکچرز وغیرہ، گھروں، مساجد، امام بارگاہوں، سوشل میڈیا اور دیگر اجتماعات میں انجام پانا چاہیے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی 114 ورلڈ ایوارڈ کہ پندرہ شعبان منجی عالم بشریت امام زمانہ (عج) کے یوم ولادت کے موقع پر جس کے آغاز کا اعلان کیا گیا اور عید غدیر پر اختتام پذیر ہو گا، اس کا اصلی مقصد دینی مراکز میں قرآنی فعالیتوں اور قرآنی مبلغین کی حمایت ہے تاکہ یہ نورانی اور قیمتی تحریک رونق پائے۔
معزز مبلغین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے جملہ اراکین، نیز تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے امید ہے کہ اس حماسہ قرآنی میں شرکت کر کے قرآنی ثقافت کو پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں تاکہ اس جد و جہد کے نتیجے میں پروردگار عالم اور ثقلین کی خشنودی حاصل ہو اور دنیا و آخرت میں سعادتمندی نصیب ہو۔
والسلام علیکم و رحمه الله و برکاته
رضا رمضانی
سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تنزانیہ کے مرکز اہل البیت(ع) کے بانی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

تنزانیہ کے مرکز اہل البیت(ع) کے بانی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے اپنے ایک تعزیتی پیغام کے ذریعے تنزانیہ کی شیعہ اثنیٰ عشری تنظیم کے رکن اور مرکز اہل البیت(ع) کے بانی "مرتضیٰ کربلا" کے انتقال پر تسلیت پیش کی ہے۔

تعزیتی پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛

85dfbedd951535af5af34ba5874f4fd4_894.jpg


بسم اللہ الرحمن الرحیم
 انا للہ و انا الیہ راجعون
تنزانیہ کے مرکز اہل البیت علیہم السلام کے بانی اور فعال شیعہ الحاج مرتضیٰ کربلا کا انتقال افسوس اور دکھ کا باعث ہوا۔
مرحوم تنزانیہ کی شیعہ اثنا عشری تنظیم کے بنیادی رکن تھے کہ جنہوں نے اپنی ساری عمر شیعوں کی خدمات میں صرف کر دی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس نقصان پر مرحوم کے اہل خانہ، ان کے دوست و احباب خصوصا اثنا عشری خوجہ کمیٹی اور دیگر پیروان اہل بیت(ع) کی خدمت میں تسلیت پیش کرتی ہے اور خداوند عالم سے مرحوم کے لیے بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

قم میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کانفرنس ہال کا افتتاح

قم میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کانفرنس ہال کا افتتاح

جمعہ, 09 اپریل 2021

ماہ شعبان کے مبارک دنوں میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے ۱۸۹ ویں اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے دفتر قم کے کانفرنس ہال کا افتتاح کیا گیا۔
یہ کانفرنس ہال جس میں ۶۰ افراد کی سیٹیں موجود ہیں اس میں ایک پروگرام ریکارڈنگ اسٹوڈیو اور مترجم کیبن بھی موجود ہیں۔
اس کانفرنس ہال کی فضا پہلے سے اسمبلی کی بلڈنگ میں موجود تھی لیکن حالیہ دنوں اسمبلی کے شعبہ اجرائی امور نے اسے کانفرنسوں کے لیے تیار کیا ہے۔

تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تازہ کتابوں کی نقاب کشائی

تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تازہ کتابوں کی نقاب کشائی

گزشتہ روز جمعرات کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تازہ کتابوں کی نقاب کشائی گئی، اس تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے اراکین آیت اللہ رمضانی، آیت اللہ دری نجف آبادی، حجۃ الاسلام محسن قمی، حجہ الاسلام ڈاکٹر عباسی نے ۲۶ نئی کتابوں کی نقاب کشائی کی۔



تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا قم میں اجلاس

تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا قم میں اجلاس

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا ۱۸۹ واں اجلاس کونسل کے ممبران کی اکثریت کے ساتھ ۸ اپریل ۲۰۲۱ کو قم دفتر کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔

 

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے دفتر تہران کے کارکنان سے ملاقات

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے دفتر تہران کے کارکنان سے ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے نئے ایرانی سال کے آغاز پر اسمبلی کے دفتر تہران کے مختلف شعبوں میں حاضر ہر کر ان کے کارکنان سے ملاقات کی۔

 

 

صوبہ گیلان کے گورنر کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

صوبہ گیلان کے گورنر کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

 ایران کے صوبہ گیلان کے گورنر ڈاکٹر "ارسلان زارع" نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی سے تہران میں ملاقات اور گفتگو کی۔
اس ملاقات میں ڈاکٹر ارسلان زارع نے نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان اور آیت اللہ رمضانی کے لیے پیروان اہل بیت(ع) کی خدمت کے لیے مزید توفیق کی تمنا کی۔  
انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کی رہنمائی کے مطابق اسلامی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی راہ میں تمام خدمتگزاروں کی زحمتوں کا شکریہ ادا کیا۔
مجلس خبرگان رہبری میں صوبہ گیلان کے نمائندے آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں ڈاکٹر ارسلان زارع کا خیرمقدم کیا اور اسلامی انقلاب کی راہ میں مزید خدمات انجام دینے کے لیے دعا کی۔

705179dfb1999e7852f24db64641f8b5_861.jpg

f1b6501b0de9970539ebca3c17d7b89a_403.jpg

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
9-3=? سیکورٹی کوڈ