شعبہ بین الاقوامی امور کی خبریں

تنزانیہ کے مرکز اہل البیت(ع) کے بانی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

تنزانیہ کے مرکز اہل البیت(ع) کے بانی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے اپنے ایک تعزیتی پیغام کے ذریعے تنزانیہ کی شیعہ اثنیٰ عشری تنظیم کے رکن اور مرکز اہل البیت(ع) کے بانی "مرتضیٰ کربلا" کے انتقال پر تسلیت پیش کی ہے۔

تعزیتی پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛

85dfbedd951535af5af34ba5874f4fd4_894.jpg


بسم اللہ الرحمن الرحیم
 انا للہ و انا الیہ راجعون
تنزانیہ کے مرکز اہل البیت علیہم السلام کے بانی اور فعال شیعہ الحاج مرتضیٰ کربلا کا انتقال افسوس اور دکھ کا باعث ہوا۔
مرحوم تنزانیہ کی شیعہ اثنا عشری تنظیم کے بنیادی رکن تھے کہ جنہوں نے اپنی ساری عمر شیعوں کی خدمات میں صرف کر دی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس نقصان پر مرحوم کے اہل خانہ، ان کے دوست و احباب خصوصا اثنا عشری خوجہ کمیٹی اور دیگر پیروان اہل بیت(ع) کی خدمت میں تسلیت پیش کرتی ہے اور خداوند عالم سے مرحوم کے لیے بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام" 114 ورلڈ ایوارڈ " کا پہلا دور

اہل بیت(ع)عالمی اسمبلی کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے 114 عالمی انعامات کے پہلے دور کی خبر دی ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین "محمد جواد زارعان" نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا: یہ انعامات پوری دنیا کے غیر ایرانی پیروان اہل بیت علیہم السلام کے دینی مراکز، مبلغین اور قرآنی امور میں فعال افراد کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: اس بات کے پیش نظر کہ دین مبین اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو قرآن کریم کی روشنی میں بیان کرنا انتہائی ضروری ہے اور اس سے اسلامی معاشرے میں استحکام پیدا ہو گا لہذا 114 ورلڈ ایوارڈز کے ذریعے یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایک معنوی فضا اور صحیح رقابت کے قیام کے ذریعے قرآن کریم اور اہل بیت کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور علاوہ از ایں، قرآنی سرگرمیوں کے میدان میں ایسی فضا قائم کی جائے جس سے باصلاحیت مبلغین بھی سامنے آ سکیں، اور دیگر افراد کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو  سکے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین زارعان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انعامات تین حصوں؛ آرٹ میڈیا مصنوعات  کی  تیاری،  آرٹ  میڈیا  مصنوعات  کی  تقسیم  اور  تبلیغی  فعالیتوں  کی  انجام  دہی ،  میں  تقسیم  کئے  جائیں  گے،  کہا:  شرکت  کرنے  والا  ہر  شخص  بغیر  کسی  پابندی  کے  اپنی  کاوشیں  فیسٹیول  کو  ارسال  کر  سکتا  ہے۔
اہل  بیت(ع)  عالمی  اسمبلی  کے  بین  الاقوامی  امور  کے  سربراہ  نے  دنیا  کے  کونے  کونے  میں  سرگرم  دینی  مراکز،  مبلغین  اور  قرآنی  فعال  افراد  کو اس  فیسٹیول  میں  شرکت  کی  دعوت  دیتے  ہوئے  کہا:  شائقین  حضرات  مزید  معلومات  حاصل  کرنے  کے  لیے  درج  ذیل  ویب  سائٹ  پر  رجوع  کریں۔

https://114award.ir/
...........

تصویری رپورٹ/ سینیگال میں

تصویری رپورٹ/ سینیگال میں "مہدویت" سے متعلق سوالات و جوابات پر مبنی نشست

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کے باہمی تعاون سے سینیگال کے دار الحکومت ڈاکار میں "مہدویت" سے متعلق سوالات و جوابات پر مبنی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

 

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے عہدیداران کی آستان قدس رضوی کے مدیران سے ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے عہدیداران کی آستان قدس رضوی کے مدیران سے ملاقات

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے عہدیداران نے آستان قدس رضوی کے مختلف شعبوں کے مدیران سے ملاقات اور مختلف مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔
گزشتہ ہفتے بدھ اور جمعرات کو ہونے والی ان ملاقاتوں میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے عہدیداران حجۃ الاسلام و المسلمین علی اکبر بدیعی، حجۃ الاسلام محمد علی معینیان اور جناب مہدوی منش موجود تھے جبکہ آستان قدس رضوی کے تمام شعبہ جات کے افراد ان ملاقاتوں میں شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ملاقاتیں کرنے کا مقصد پوری دنیا میں تعلیمات اہل بیت(ع) کی نشر و اشاعت اور مذہب تشیع کی ترویج میں باہمی تعاون کی راہیں ہموار کرنا بتایا گیا ہے۔

حکیم امت مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا فقدان قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہے: اہل بیت(ع) فاؤنڈیشن انڈیا

حکیم امت مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا فقدان قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہے: اہل بیت(ع) فاؤنڈیشن انڈیا

آل انڈیا مسلم پرنسل لاء بورڈ کے نائب سربراہ اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن مولانا ڈاکٹر کلب صادق نقوی کے انتقال پر اہل بیت(ع) فاؤنڈیشن انڈیا نے تعزیتی پیغام دیا ہے۔

پیغام میں مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ نے قوم کو جہالت سے دور کر کے علم کی شاہراہ پر گامزن کیا، مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا۔

اہل بیت(ع) فاؤنڈیشن انڈیا کا تعزیتی پیغام حسب ذیل ہے:


إِذَا مَاتَ الْعَالِمُ ثُلِمَ فِي الْإِسْلَامِ ثُلْمَةٌ لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ برِ صغیر کی تاریخ ساز شخصیت، مشہور عالمِ دین، مصلح قوم و ملت، حکیم امت، مولانا ڈاکٹر سید کلب صادق صاحب قبلہ(نائب صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ) نے داعی اجل کو لبیک کہکر دارِ فانی کو الوداع کہا اور قوم کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے معبود حقیقی سے جا ملے۔
موصوف کا سانحۂ ارتحال اس دورِ قحط الرجال میں دنیائے علم و ادب و اصلاح امت اور ملتِ تشیع کا ایک ایسا عظیم نقصان ہے جس کی بھر پائی ناممکن ہے.
آپ نے قوم و ملت کی ترقی کے لئے جو خدمتیں انجام دیں ہیں وہ قابلِ صد تحسین و ناقابلِ فراموش ہیں آپ نے قوم کو جہالت سے دور کرکے علم کی شاہراہ پر گامزن کیا، مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے میں موصوف کی ان تھک کوششوں کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔
سن ۲۰۰۸ میں اہل بیت(ع) فاؤنڈیشن کی جانب سے سر زمین قم المقدسہ پر منعقدہ ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد اتحاد اسلامی کانفرنس میں ہماری دعوت پر شریک ہوئے اور "ہندوستان میں اسلامی اتحاد اور اسکے نفاذ کی راہیں" کے عنوان سے بڑی جامع تقریر کی اور کہا کہ قوم میں اختلاف کی جڑ اور قوم کی بیماری جہالت ہے لہذا قوم میں اتحاد و اتفاق کے نفاذ اور قوم کی ترقی اور پیشرفت کے لئے ہمیں قوم کو جہالت سے دور کرکے اسے علم کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہوگا۔
موصوف نے اہل بیت(ع)فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ مختلف پروگراموں میں ہمیشہ شرکت کر کے اپنے حکیمانہ بیان سے رونق بخشی۔
ایسی عظیم المرتبت، باوقار شخصیت کے سانحۂ ارتحال پر ہم اراکین اہل بیت(ع)فاؤنڈیشن حضرت امام عصر(عج)، رہبر معظم انقلاب، مراجعِ عظام تقلید، علمائے کرام، حوزاتِ علمیہ، قائد ملت حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید کلب جواد صاحب اور تمام مومنین و مومنات اور بالخصوص مرحوم کے اہل خانہ و فرزندان جناب ڈاکٹر کلب سبطین نوری، جناب کلب حسین نقوی، جناب کلب منتظر نقوی صاحبان اور مرحوم کے داماد جناب نجم الحسن رضوی نجمی صاحب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے خداوند کریم کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ خداوند متعال مرحوم کو جوارِ رحمت عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عنایت فرمائے.
آمین یارب العالمین بحق محمد و آلہ الطاہرین.

ہندوستان کے حکیم امت مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا انتقال پرملال

ہندوستان کے حکیم امت مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا انتقال پرملال

حکیم امت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب سربراہ، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن اور ہندوستان کے مشہور عالم دین مولانا سید کلب صادق صاحب کا لکھنئو کے ایرا میڈیکل کالج میں انتقال ہو گیا ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق مولانا کلب صادق صاحب کے فرزند کلب سبطین نوری نے ان کے انتقال کی خبر دی۔

مولانا کلب سبطین نوری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکیم امت اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب سربراہ مولانا کلب صادق صاحب کا انتقال ہندوستان کے وقت کے مطابق رات دس بجے ہوا اور انہوں نے ایرا میڈیکل کالج لکھنؤ میں آخری سانس لی۔

وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے اور تقریبا ایک ہفتہ پہلے ان کی زیادہ طبیعت خراب ہونے کے بعد لکھنو کے ایرا میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کو ایرا میڈیکل کالج میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز ان کی خاص دیکھ ریکھ کر رہے تھے۔

ڈاکٹر کلب صادق انقلاب اسلامی ایران اور اتحاد مسلمین کے سخت حامی تھے اور انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شیعیان ھند کی نمایندگی کرتے ہوئے متعدد بار شرکت کی۔
مرحوم مغفور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے اسمبلی کے چار سالہ بین الاقوامی اجلاس میں ہمیشہ شرکت کیا کرتے تھے۔
سید کلب صادق نقوی نے کئی بار رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ العظمیٰ سیستانی سے ملاقات کی۔
مرحوم نے اپنی زندگی میں بے شمار کارہائے خیر انجام دئیے جن میں ہسپتال، اسکولز اور یونیورسٹیوں کی تعمیر بھی شامل ہیں۔
مولانا سید کلب صادق ایک عرصے تک لکھنو میں امام جمعہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ہندوستان کے معروف خطباء میں مرحوم کا شمار ہوتا تھا اور وہ ہند و پاک کے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک میں بھی مجالس کو خطاب کرنے جایا کرتے تھے۔
سید کلب صادق کا تعلق لکھنو کے ایک علمی گھرانے سے تھا اور نسل در نسل دینی علماء اس خاندان سے عرصہ حیات میں قدم رکھتے رہے ہیں۔

مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

مشرقی افریقہ میں عرصہ دراز سے مذہب تشیع کی تبلیغ کرنے والے فعال عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ ’عبد اللہ سیف سعید‘ دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔
حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے مبلغ جو تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت (T.I.C)  کے رکن بھی شمار ہوتے تھے نے اس ملک میں کافی خدمات پیش کی ہیں۔
شیخ عبد اللہ سیف سعید سنیچر کے روز ۲۳ محرام الحرام کو ۸۱ سال کی عمر میں تنزانیہ میں انتقال کر گئے۔


حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ عبد اللہ سیف سعید کا مختصر زندگی نامہ
عبد اللہ سیف سعید سن ۱۹۳۹ میں جنوبی تنزانیہ کے علاقے ’’لینڈی‘‘ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۵۸ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دار السلام کا رخ کیا۔
تنزانیہ میں انہوں نے مساجد میں ہونے والے دینی دروس میں شرکت کرنا شروع کیا، اور ساتھ ساتھ اپنی روزگار چلانے کے لیے دن میں وہ ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتے اور رات کو دینی علوم حاصل کرنے کے لیے مسجد جاتے تھے۔
عبد اللہ سیف سعید ۱۹۶۴ میں ایک مقامی شیعہ کے واسطے مرحوم آیت اللہ سید سعید اختر رضوی سے آشنا ہوئے اور چند سال ان کے پاس دینی تعلیم حاصل کی۔
شیخ ۱۹۶۷ میں مرحوم سید سعید اختر کے ذریعے چند دیگر طلاب کے ہمراہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے لیے نجف اشرف کے حوزہ علمیہ میں قدم رکھتے ہیں اس دور میں نجف اشرف کا حوزہ علمیہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے سربراہی میں اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔

a7c7c7429b41d12de369d4296585cb9d_266.jpg


شیخ عبد اللہ سیف کی ایک دلچسپ داستان ان کے روحانی لباس اور عمامہ پہننے کی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ دیگر طلاب کے ہمراہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے پاس سر پر عمامہ رکھوانے گئے تو آیت اللہ حکیم نے عمامہ رکھتے ہوئے فرمایا: ’’اس روحانی لباس کو کبھی بھی نہ اتارنا اور ہمیشہ اسے پہننے کی پابندی کرنا، یہاں تک کہ موت کے بعد غسل کرنے والا اس لباس کو تمہارے بدن سے اتارے‘‘۔ اسی نصیحت کی وجہ سے شیخ عبد اللہ سیف ہمیشہ روحانی لباس میں رہتے تھے حتیٰ کہ تنزانیہ کی شدید گرمی میں بھی وہ عمامہ سر سے نہیں اتارتے تھے۔
عراق میں سیاسی حالات خراب ہونے اور حوزہ علمیہ نجف کے متاثر ہونے کی وجہ سے آیت اللہ حکیم نے طلاب کو لبنان میں سید موسی صدر کے پاس بھیج دیا اور وہاں مصروف تعلیم ہو گئے۔
لیکن ۱۹۷۳ میں عبد اللہ سیف سعید نے ایران کا رخ کیا اور قم کے حوزہ علمیہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔
قم میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۷۸ میں تنزانیہ واپس چلے گئے اور مرحوم سید اختر رضوی کی زیر نگرانی بلال مسلم مشن میں تبلیغ و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔
شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۹۰ میں سید اختر رضوی کے ذریعے موزمبیق چلے گئے اور وہاں  بلال مسلم مشن کا ایک شعبہ قائم کیا اور سالہا سال اس علاقے میں تبلیغ و تدریس اور تعلیمات اہل بیت (ع) کو عام کرنے میں مصروف رہے۔

29c45c0a7b021ef253caa0329dd74fd9_468.jpg


سن ۲۰۰۲ میں آیت اللہ سید اختر رضوی جب انتقال کر گئے تو شیخ عبد اللہ دار السلام واپس آ گئے اور بلال مشن میں کام کرنا شروع کیا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سینٹر سے باہر آ گئے اور آزاد طور پر دار السلام میں تبلیغی امور انجام دینے لگے۔
شیخ عبد اللہ سیف ’’تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت‘‘ (T.I.C) کے رکن تھے اور نیز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے بھی تعلق رکھتے تھے۔
مرحوم سادہ زیست، منکسر المزاج اور خوجہ شیعوں میں بے حد مقبول تھے۔ مقامی شیعوں کے درمیان بھی مرحوم کا خاصہ مقام تھا، خدا مرحوم کو غریق رحمت کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت کرے۔

مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے صوبے جموں کے خطے پونچھ سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز، شریں سخن، نہایت ذی علم، خوش فہم، پاکیزہ نفس اور عظیم صلاحیتوں کے مالک حجۃ الاسلام و المسلمین سید ذوالفقار علی جعفری کا انتقال پرملال قوم وملت کے لیے عظیم نقصان ہے۔
مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر
مولانا ذوالفقار علی جعفری پونچھ کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم مرحوم مولانا سید منیر حسین جعفری اپنی عمر کے آخری حصے تک علاقے کے امام جمعہ و جماعت اور دین کی تبلیغ کے فرائض انجام دینے میں مصروف رہے جبکہ ان کا پورا گھرانہ ہی انہیں سرگرمیوں میں مصروف تھا اور ہے۔
مرحوم قبلہ نے ابتدائی دینی تعلیم سرینگر کے حوزہ علمیہ امام رضا علیہ السلام، تنظیم المکاتب (جامعہ امامیہ) لکھنو اور نوگاواں سادات جامعۃ المنتظر میں حاصل کی اور اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ۱۹۹۲،۹۳ میں حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا۔ لگ بھگ بیس سال حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ حجتیہ اور مدرسہ امام خمینی (رہ) میں علوم اہل بیت(ع) کے بحر بیکراں سے خود کو سیراب کرنے کے بعد تدریس و تبلیغ کے فرائض انجام دینے کی غرض سے اپنے وطن واپس پہنچے۔
 البتہ اس درمیان تین سال صوبہ جموں کے حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں اپنے اعلیٰ فن تدریس سے ایسے شاگردوں کی تربیت کی جو اس وقت حوزہ علمیہ قم میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں یا ہندوستان کے گوشہ و کنار میں تبلیغ دین کر رہے ہیں جو درحقیقت مرحوم کے لیے ایک صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
قم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مرحوم مغفور نے دوبارہ حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں کچھ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد سرینگر کے حوزہ علمیہ باب العلم میں تدریس کے فرائض انجام دینا شروع کئے۔ تاحال اسی مدرسہ میں تشنہ گان علم کو تعلیمات قرآن و اہل بیت(ع) سے سیراب کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک کینسر جیسی مہلک بیماری نے غلبہ کر دیا اور وہ بھی ایسے دور میں جب کورونا وائرس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اگر یہ وبائی بیماری نہ ہوتی تو شائد مرحوم اپنی اصلی بیماری کا کچھ عرصہ مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور دین کی خدمت میں کچھ اور لمحات صرف کر دیتے۔
مرحوم مغفور جس دور میں قم میں زیر تعلیم تھے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی (مجمع جہانی اہلبیت) کی پورٹل ویب سائٹ میں تعلیمات اہل بیت(ع) کو عام کرنے میں چند سال مصروف رہے۔ باایں عنوان اس غم انگیز موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم، مرحوم کے اساتید، دوست و احباب، جملہ لواحقین خصوصا اہل خانہ کو تسلیت و تعزیت پیش کرتی ہے۔ خداوند عالم مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام عنایت فرمائے۔

[12  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
4-1=? سیکورٹی کوڈ