سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔
سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

پاکستان میں گزشتہ دنوں مولوی اشرف آصف جلالی کے ذریعے سیدہ کونین صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا (س) کی شان میں کی گئی گستاخی کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے سخت اور کڑے لہجے میں ایک بیان جاری کر کے اس نازیبا حرکت کی مذمت کی ہے۔

بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔

بسم الله الرحمن الرحیم

إنما يريد الله لیذهب عنکم الرجس اهل البيت و یطهرکم تطهیرا ( صدق الله العلي العظيم)
(بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں ویسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے)
پاکستان کے ایک بظاہر عالم دین کی جانب سے اس ملک کے ٹی وی چینل پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت کو خدشہ دار کرنے کی غرض سے توہین آمیز اور شرمناک الفاظ کا استعمال کیا جانا اور جعلی احادیث کو بیان کر کے انہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف نسبت دینا مسلمانوں کی دل آزاری اور ملک میں احتجاجی مظاہرے ہونے مخصوصا علمائے اہل سنت کی جانب سے سخت موقف اپنائے جانے کا سبب بنا ہے۔
۱۵۰ سے زائد علمائے اہل سنت نے مولوی اشرف آصف جلالی کے توہین آمیز الفاظ کی مذمت کی ہے اور اسے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کی تلقین کی ہے۔
وہابی فکر رکھنے والا یہ متعصب اور اندھا دل شخص جو سعودی ریالوں پر اپنا ایمان فروخت کرنے پر آمادہ ہو گیا نے کروڑوں مسلمانوں اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے دلوں کو رنجیدہ کیا ہے اور مسلمانوں کے درمیان منافرت اور تفرقہ پھیلانے کی ناکام کوشش کی ہے جس کا مقصد ایک مرتبہ پھر پاکستان میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑکا کر مسلمانوں اور مومنوں کی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کروانا اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ اس بے شعور اور عقل سے پیدل سعودی مزدور اور زرخرید غلام کے اس قبیح اور شرمناک اقدام کی مذمت کرتی اور ان جعلی اور غلط روایات کو ممبروں سے بیان کئے جانے کے سخت مخالفت کرتی ہے جو اہل بیت اطہار (ع) اور اصحاب اکرام کے عظیم اور بلند مقام کی توہین اور عوام کے افکار میں انحراف کا باعث ہوں۔
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ کہ آپ نے انہیں ’’سیدۃ نساء اھل الجنۃ‘‘ قرار دیا نیز تمام صحابہ و تابعین کہ جنہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت و طہارت کا اعتراف کیا، کے نزدیک آپ کا مرتبہ سب پر عیاں ہے، اس جاہل و سیاہ دل کی ہرزہ سرائیوں سے یقینا رسول اسلام (ص) اور اہل ایمان کی دل آزاری ہوئی ہے اور اس کا تنہا راستہ کھلے عام توبہ و استغفار اور معذرت خواہی ہے جیسا کہ اس نے کھلے عام اس ناقابل بخشش خطا کا ارتکاب کیا ہے۔
و العاقبة للمتقین
                                                               محمد حسن اختری
                                            سربراہ مجلس اعلیٰ برائے اھل البیت(ع) عالمی اسمبلی

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
2*8=? سیکورٹی کوڈ