مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے مبلغ جو تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت (T.I.C) کے رکن بھی شمار ہوتے تھے نے اس ملک میں کافی خدمات پیش کی ہیں۔
مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

مشرقی افریقہ میں عرصہ دراز سے مذہب تشیع کی تبلیغ کرنے والے فعال عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ ’عبد اللہ سیف سعید‘ دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔
حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے مبلغ جو تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت (T.I.C)  کے رکن بھی شمار ہوتے تھے نے اس ملک میں کافی خدمات پیش کی ہیں۔
شیخ عبد اللہ سیف سعید سنیچر کے روز ۲۳ محرام الحرام کو ۸۱ سال کی عمر میں تنزانیہ میں انتقال کر گئے۔


حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ عبد اللہ سیف سعید کا مختصر زندگی نامہ
عبد اللہ سیف سعید سن ۱۹۳۹ میں جنوبی تنزانیہ کے علاقے ’’لینڈی‘‘ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۵۸ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دار السلام کا رخ کیا۔
تنزانیہ میں انہوں نے مساجد میں ہونے والے دینی دروس میں شرکت کرنا شروع کیا، اور ساتھ ساتھ اپنی روزگار چلانے کے لیے دن میں وہ ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتے اور رات کو دینی علوم حاصل کرنے کے لیے مسجد جاتے تھے۔
عبد اللہ سیف سعید ۱۹۶۴ میں ایک مقامی شیعہ کے واسطے مرحوم آیت اللہ سید سعید اختر رضوی سے آشنا ہوئے اور چند سال ان کے پاس دینی تعلیم حاصل کی۔
شیخ ۱۹۶۷ میں مرحوم سید سعید اختر کے ذریعے چند دیگر طلاب کے ہمراہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے لیے نجف اشرف کے حوزہ علمیہ میں قدم رکھتے ہیں اس دور میں نجف اشرف کا حوزہ علمیہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے سربراہی میں اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔

a7c7c7429b41d12de369d4296585cb9d_266.jpg


شیخ عبد اللہ سیف کی ایک دلچسپ داستان ان کے روحانی لباس اور عمامہ پہننے کی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ دیگر طلاب کے ہمراہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے پاس سر پر عمامہ رکھوانے گئے تو آیت اللہ حکیم نے عمامہ رکھتے ہوئے فرمایا: ’’اس روحانی لباس کو کبھی بھی نہ اتارنا اور ہمیشہ اسے پہننے کی پابندی کرنا، یہاں تک کہ موت کے بعد غسل کرنے والا اس لباس کو تمہارے بدن سے اتارے‘‘۔ اسی نصیحت کی وجہ سے شیخ عبد اللہ سیف ہمیشہ روحانی لباس میں رہتے تھے حتیٰ کہ تنزانیہ کی شدید گرمی میں بھی وہ عمامہ سر سے نہیں اتارتے تھے۔
عراق میں سیاسی حالات خراب ہونے اور حوزہ علمیہ نجف کے متاثر ہونے کی وجہ سے آیت اللہ حکیم نے طلاب کو لبنان میں سید موسی صدر کے پاس بھیج دیا اور وہاں مصروف تعلیم ہو گئے۔
لیکن ۱۹۷۳ میں عبد اللہ سیف سعید نے ایران کا رخ کیا اور قم کے حوزہ علمیہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔
قم میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۷۸ میں تنزانیہ واپس چلے گئے اور مرحوم سید اختر رضوی کی زیر نگرانی بلال مسلم مشن میں تبلیغ و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔
شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۹۰ میں سید اختر رضوی کے ذریعے موزمبیق چلے گئے اور وہاں  بلال مسلم مشن کا ایک شعبہ قائم کیا اور سالہا سال اس علاقے میں تبلیغ و تدریس اور تعلیمات اہل بیت (ع) کو عام کرنے میں مصروف رہے۔

29c45c0a7b021ef253caa0329dd74fd9_468.jpg


سن ۲۰۰۲ میں آیت اللہ سید اختر رضوی جب انتقال کر گئے تو شیخ عبد اللہ دار السلام واپس آ گئے اور بلال مشن میں کام کرنا شروع کیا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سینٹر سے باہر آ گئے اور آزاد طور پر دار السلام میں تبلیغی امور انجام دینے لگے۔
شیخ عبد اللہ سیف ’’تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت‘‘ (T.I.C) کے رکن تھے اور نیز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے بھی تعلق رکھتے تھے۔
مرحوم سادہ زیست، منکسر المزاج اور خوجہ شیعوں میں بے حد مقبول تھے۔ مقامی شیعوں کے درمیان بھی مرحوم کا خاصہ مقام تھا، خدا مرحوم کو غریق رحمت کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت کرے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
5*5=? سیکورٹی کوڈ