مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

صوبے جموں کے خطے پونچھ سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز، شریں سخن، نہایت ذی علم، خوش فہم، پاکیزہ نفس اور عظیم صلاحیتوں کے مالک حجۃ الاسلام و المسلمین سید ذوالفقار علی جعفری کا انتقال پرملال قوم وملت کے لیے عظیم نقصان ہے۔
مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے صوبے جموں کے خطے پونچھ سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز، شریں سخن، نہایت ذی علم، خوش فہم، پاکیزہ نفس اور عظیم صلاحیتوں کے مالک حجۃ الاسلام و المسلمین سید ذوالفقار علی جعفری کا انتقال پرملال قوم وملت کے لیے عظیم نقصان ہے۔
مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر
مولانا ذوالفقار علی جعفری پونچھ کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم مرحوم مولانا سید منیر حسین جعفری اپنی عمر کے آخری حصے تک علاقے کے امام جمعہ و جماعت اور دین کی تبلیغ کے فرائض انجام دینے میں مصروف رہے جبکہ ان کا پورا گھرانہ ہی انہیں سرگرمیوں میں مصروف تھا اور ہے۔
مرحوم قبلہ نے ابتدائی دینی تعلیم سرینگر کے حوزہ علمیہ امام رضا علیہ السلام، تنظیم المکاتب (جامعہ امامیہ) لکھنو اور نوگاواں سادات جامعۃ المنتظر میں حاصل کی اور اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ۱۹۹۲،۹۳ میں حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا۔ لگ بھگ بیس سال حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ حجتیہ اور مدرسہ امام خمینی (رہ) میں علوم اہل بیت(ع) کے بحر بیکراں سے خود کو سیراب کرنے کے بعد تدریس و تبلیغ کے فرائض انجام دینے کی غرض سے اپنے وطن واپس پہنچے۔
 البتہ اس درمیان تین سال صوبہ جموں کے حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں اپنے اعلیٰ فن تدریس سے ایسے شاگردوں کی تربیت کی جو اس وقت حوزہ علمیہ قم میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں یا ہندوستان کے گوشہ و کنار میں تبلیغ دین کر رہے ہیں جو درحقیقت مرحوم کے لیے ایک صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
قم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مرحوم مغفور نے دوبارہ حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں کچھ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد سرینگر کے حوزہ علمیہ باب العلم میں تدریس کے فرائض انجام دینا شروع کئے۔ تاحال اسی مدرسہ میں تشنہ گان علم کو تعلیمات قرآن و اہل بیت(ع) سے سیراب کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک کینسر جیسی مہلک بیماری نے غلبہ کر دیا اور وہ بھی ایسے دور میں جب کورونا وائرس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اگر یہ وبائی بیماری نہ ہوتی تو شائد مرحوم اپنی اصلی بیماری کا کچھ عرصہ مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور دین کی خدمت میں کچھ اور لمحات صرف کر دیتے۔
مرحوم مغفور جس دور میں قم میں زیر تعلیم تھے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی (مجمع جہانی اہلبیت) کی پورٹل ویب سائٹ میں تعلیمات اہل بیت(ع) کو عام کرنے میں چند سال مصروف رہے۔ باایں عنوان اس غم انگیز موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم، مرحوم کے اساتید، دوست و احباب، جملہ لواحقین خصوصا اہل خانہ کو تسلیت و تعزیت پیش کرتی ہے۔ خداوند عالم مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام عنایت فرمائے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
6+5=? سیکورٹی کوڈ