Articles tagged with: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلے کا اعلان (2021-2022)

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلے کا اعلان (2021-2022)

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں تعلیمی سال 2021-2022 کے لیے داخلے کا اعلان کر دیا گیا ہے؛

مکمل اطلاعیہ کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛


اہل بیت علیہم السلام انٹرنیشنل یونیورسٹی تہران، اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے تصدیق شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی یونیورسٹیز یونین (IAU) کی رکن بھی ہے جوکہ (UNESCO) کے تحت نظر ہے۔ یہ یونیورسٹی صرف غیر ایرانی  طلاب  کی اعلی سطح پر تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں ہے. لہذا ہمیشہ کی طرح اس سال پھر اس یونیورسٹی کی طرف سے غیرایرانی طالب علموں کے  لیے تعلیمی سال  21-2020 میں ایم اے کی سطح پر ایڈمیشن  کا اعلان کیا جاتا ہے جو کہ ( 21 مارچ 2020) سے شروع ہوا ہے اور31 اگست 2020  تک جاری رہے گا.
خواہشمند اسٹوڈنٹس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ  مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیں.

◀️ ایم اے (ایم فل) میں داخلے کے شعبہ جات
۔ اسلامی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Islamic Sciences)
   تاریخ اسلام (History of Islam)
   اسلامی فلسفہ و کلام (Islamic Theology and Philosophy)
  علم عرفان و ادیان (Mysticism and Religion)

۔ سماجی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Social Sciences)
  بین الاقوامی تعلقات (International Relations)
  انتظام کاروبار (Business Administration)
  اقتصاد اسلامی (Islamic Economy)
۔ ادبیات اور انسانی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Literature and Humanities)
  پرائیویٹ لاء (Private Law)
  کرمنال لاء (Penal Law and Criminology)
 فارسی ادب (ادبیات فارسی) (Persian Language and Literature)
 
◀️ ضروری نکات
1۔ اہل بیت(ع) یونیورسٹی ایران کے دار الحکومت تہران میں واقع ہے لہذا طلاب کو تہران میں سکونت پذیر ہونا پڑے گا۔
2۔ تمام دروس، امتحانات اور تھیسیس فارسی زبان میں ہوں گے۔ لہذا وہ طلاب جو فارسی زبان سے آشنا نہیں ہیں انہیں سب سے پہلے فارسی زبان کو کورس کرنا ہو گا جو یونیورسٹی میں ہی منعقد ہو گا۔
3۔ جس شعبہ میں طالب علم کا ایڈمیشن ہو جائے گا وہ بعد میں تبدیل نہیں ہو سکے گا۔
4۔ تمام دروس کی عناوین یونیورسٹی کی ویب سائٹ میں موجود ہیں۔

◀️ اہل بیت یونیورسٹی میں داخلے کے شرائط  
1۔ اپنے ملک سے بی اے (BA) کی ڈگری کا ہونا( جو 16 سال تعلیم پر مشتمل ہو؛ 12 سال پہلی سے ڈپلامہ اور 4 سال یونیورسٹی یا کالج)
نوٹ؛ اگر کسی طالب علم نے ابھی بی اے مکمل نہ کیا ہو تو اپنی یونیورسٹی سے عارضی سرٹیفکیٹ پیش کر کے ایڈمیشن لے سکتا ہے۔ البتہ تصدیق شدہ اصلی سرٹیفکیٹ کو اہل بیت(ع) یونیورسٹی میں حاضری کے وقت پیش کرنا ضروری ہے۔
2- عمر زیادہ سے زیادہ 28 ہو
نوٹ: اگر طلب علم  مندرجہ ذیل امتیازات  کا حامل ہو  تو عمر میں 32 سال تک  کی رعایت دی جائے گی:
حافظ قرآن ہو یا کم از کم 20 پارےحفظ کیے ہوں - کم از کم دو علمی کتابوں کا مولف یا  مترجم  ہو - متقاضی کے کم از کم دو ریسرچ آرٹیکل معتبر تعلیمی تحقیقی مجلات میں چھپ چکے ہوں – بی اے کے مساوی دینی مدارس کی سند کا حامل ہو.
3۔ غیر شادی شدہ ہو ( شادی شدہ افراد بھی ایڈمیشن لے سکتے ہیں مگر یونیورسٹی انہیں کوئی اضافی مراعات نہیں دے گی)
4۔ طالب عالم قابل اور باصلاحیت ہو
5۔ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے تندرست ہو۔
6۔ بی اے کے سبجیکٹ ایم اے کے سبجکٹس سے ملتے جلتے ہوں۔
قرآن کریم کو ناظرہ پڑھ سکنے اور دینی احکام کا پابند ہونے جیسی خصوصیات کے حامل طالب علموں کو اسکالر شپ کے حصول میں اولویت حاصل ہو گی۔
7۔ متقاضی اس سے  پہلے ایم اے (ایم فل) کی سطح پر ایران کی کسی دوسری یونیورسٹی سے اسکالر شپ نہ لے چکا ہو.

◀️ تعلیمی اور رفاہی سہولیات
اہل بیت انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سابقہ اسناد کی بنا پر ایڈمیشن کے دو طریقے ہیں:
1۔  وظیفہ  پر(Scholarships)  
اسکالر شپ پر پڑھنے والے طلباء کو مندرجہ ذیل سہولیات بغیر کسی اجرت کی وصولی کے فراہم کی جائیں گی؛
۔ 24 مہینے تک مفت ہاسٹل کا اہتمام (چار ٹرم پر مشتمل کورس)
۔ مفت تعلیم
۔ مفت کھانا (دوپہر اور رات کا کھانا) یا اس کے بدلے میں نقدی پیسہ
۔ دیگر ثقافتی سہولیات ( منجملہ تفریحی ٹورز، ہدایا۔۔۔)
- ورزشی سہولیات اور کئریر گائیڈنس.
- مفت علاج معالجہ کے لئے تعلیم مکمل ہونے تک بیمہ .( insurance)
- اسٹوڈنٹس افئیرز (Students Affairs)  میں فعالیت کی بنیاد پر اسٹوڈنٹس کی مالی معاونت کی جائے گی.
- علمی و تحقیقی سہولیات: (لائبریری، مفت انٹرنیٹ وغیرہ)

2۔  ذاتی خرچ پر  (Self finance)
سہولیات کے ضمن میں اسٹوڈنٹس کے مابین کسی طرح کی تفریق نہیں ہوگی (ذاتی خرچے پر آنے والے اسٹوڈنٹس کو بھی وظیفہ حاصل کرنے والوں کی جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گی) صرف اتنا  فرق ہوگا کہ انہیں ہر سمسٹر کے (۱۰۰۰) ڈالر یونیورسٹی کو ادا کرنا ہوں گے.اس کے علاوہ ڈگری وغیرہ کے حصول تک کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہوگا.  

◀️ رجسٹریشن کا طریقہ کار
1- خواہشمند طلاب، اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ Soarg.ir:8081 پر اپنا فارم بھریں اور اپنے (Documents) یعنی: (تصویر، پاسپوٹ، تعلیمی اسناد وغیرہ) کو دی گئی ہدایات کے مطابق اسکین کر کے اپلوڈ کریں۔ رجسٹریشن کے اختتام پر درخواست دہندگان کو ایک کوڈ  موصول ہوگا کہ جسے وہ  یونیورسٹی داخلہ کمیٹی کو ارسال کریں گے۔ (دوسرا حصہ) درخوست دہندگان اپنا فارم بھرتے وقت 24-نمبر پر اہل بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا انتخاب کرنا مت بھولیں کیونکہ اس سے آپ کی مطلوبہ یونیورسٹی مشخص ہو گی.
2- پہلا مرحلہ مکمل کرنے اور اپنا کوڈ وصول کرنے کے بعد کہ جس کا نمبر (1) میں ذکر کیا گیا ہے امیدوار دوبارہ نیچے دی گئی سایٹ: admission.abu.ac.ir   پر موجود فارم کو پر کرے گا جس کے بعد اسے ایک کوڈ دیا جائے گا کہ جس کی بنیاد پر وہ  یونیورسٹی سے رابطہ کر کے اپنے ایڈمیشن کی اطلاعات حاصل کرسکے گا۔
نکتہ  دوم : بہتر ہے کہ رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے سے پہلے امیدوار  تما م اسناد  (Documents)کو تیار رکھیں.
نکتہ سوئم : رجسٹریشن کے مراحل مکمل کرنے کے بعد امیدوار یونیورسٹی کے جواب کا انتظار کریں.
نکتہ چہارم: رجسٹریشن کی انجام دہی  و دیگر  تمام تر مطلوبہ معلومات یونیورسٹی کی ویب سائٹ: abu.ac.ir دی گئی ہیں لہذا تاکید کی جاتی ہے کہ اپنا فارم پر کرنے سے پہلے اس سائٹ پر وزٹ کر کے ان کا مطالعہ کریں.

◀️ رجسٹریشن اور نئے تعلیمی سال کا آغاز
رجسٹریشن کا دورانیہ، 21 مارچ تا 31 اگست2020
 اعلان نتائج،  31 اگست تا 1 نومبر 2020    
 ایران آمد، 06 تا 24 دسمبر 2020
فارسی زبان کی کلاسز کا آغاز  25 دسمبر 2020
نئے تعلیمی سال کا آغاز 23 اگست 2021
            
نکتہ پنجم: تعلیمی قوانین اور نظم و ضبط کے پیش نظر امیدواروں کو چاہیے کہ وقت پہ رجسٹریشن کریں کیونکہ دئیے گئے دورانیہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی.

نکتہ ششم: امیدواروں کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو جانے کے بعد اور کلاسز شروع کرنے سے پہلے اپنے ملک میں وزارت علوم کے اعلی دفتر جیسے پاکستان میں (ہائیر ایجوکیشن کمیشن، (ایچ ای سی)) اور ایرانی کونسلیٹ سے تصدیق شدہ، ( آخری ڈگری اور مارکس شیٹ)، یونیورسٹی ایڈمیشن کمیٹی  کو  دیکھانا شرط ہے، ورنہ کلاسز میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی. اس لئے ابھی سے تاکید کی جاتی ہے کہ یونیورسٹی سائٹ پر اپنا فارم پر کرنے کے ساتھ ہی اپنے  (Documents) مکمل کروا لیں.

۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے یونیورسٹی نے فارسی کی کلاسوں کو آنلاین منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طلباء کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

◀️ یونیورسٹی سے رابطہ کا طریقہ کار
1- بیشتر معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ مندرجہ ذیل طریقوں سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں:
 یونیورسٹی فون:   982122449240+
 ٹیلی گرام اور وٹس ایپ پر میسج کے ذریعے: 989101915801+ (@ABUadmission)
 ای میل کے ذریعے:  Email: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
2- یونیورسٹی کی طرف سے تمام اطلاعات رسمی طریقے سے مندرجہ ذیل سائٹس پر  اپلوڈ کی جاتی ہیں لہذا امیدواروں کو مطع کیا جاتا ہے کہ وہ   صرف انہی راستوں سے مطلوبہ اطلاعات حاصل کریں:
 Telegram channel: @ABUadmission
University Website: abu.ac.ir

 اپنی شخصی اطلاعات حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی کی سایٹ پر دیے گئے ایڈرس کے ذریعے اقدام کریں :  ams.abu.ac.ir البتہ یہ رابطہ صرف رجسٹریشن کی تکمیل کے بعد ممکن ہو گا.

.................

آیت اللہ اختری: رہبر اسلام، اسلامی تہذیب کو زندہ رکھنے کے خواہاں

آیت اللہ اختری: رہبر اسلام، اسلامی تہذیب کو زندہ رکھنے کے خواہاں

اسلامی تہذیب، انسانی معاشرے خصوصا اسلامی سماج کی کھوئی ہوئی شئے ہے۔ عزت، سعادت، سربلندی اور تمام انسانی و دینی اقدار اس معاشرے میں تحقق پاتے ہیں جہاں اسلامی تہذیب جلوہ گر ہو۔
یہ بات اہل بیت عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے مشہد مقدس میں منعقدہ ’’اسلامی تہذیب کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بڑی طاقتوں کے زیر تسلط کمزور حکمران آج عالم اسلام کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہیں کہا: ایک زمانے میں اسلامی تمدن خوب جلوہ نمائی کر رہا تھا لیکن آج ضعف، سستی، بے ثقافتی، ظلم و بے انصافی اسلامی معاشروں میں بڑھتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ اسلامی سماج ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی اور اسلامی امت کے عزت و آبرو کو سستے دام بیچ دیا ہے اور وہ ستمگروں اور مکاروں کے سامنے ذلیل  و خوار ہو رہے ہیں۔
آقائے اختری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ انقلاب اسلامی سے قبل ۸۰ ہزار امریکی مشیر ایران میں موجود تھے اور ایران سے اپنی وحشی گری کی تنخواہ لیتے تھے کہا: امریکہ کی ہماری نسبت دید میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اسلامی ممالک کے مسلمان، علما اور سیاستدان بیدار نہیں ہو رہے ہیں اور ان کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اسلامی انقلاب اور امام راحل (رہ) کو عصر حاضرمیں خداوند عالم کی عظیم نعمت شمار کرتے ہوئے کہا: امام راحل نے انقلاب اسلامی کی برکت سے اسلام کو زندہ کیا اور مسلمانوں کو عزت بخشی۔ اور اس نعمت کا سلسلہ رہبر انقلاب اسلامی کے وجود سے جاری ہے آپ آج ایک شجاع، طاقتور، مدبر، دانشور اور حالات سے آگاہ رہبر ہونے کے عنوان سے دشمن کی تمام سازشوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور اسلامی معاشرے کو سعادت، کمال اور ترقی کی طرف ہدایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی تہذیب و تمدن کے خواہاں ہیں اسلامی تمدن کے مختلف پہلو ہیں ان میں سے ایک اسلامی معاشرے کی علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔

عالم اسلام بحرین میں آل خلیفہ کے جرائم کا ذمہ دار/ آل سعود نے انسان اور انسانیت کی کوئی عزت باقی نہیں چھوڑی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے شہدائے مزاحمت کی یاد میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے قم میں مراجع عظام اور علماء کرام کی موجودگی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے شہداء بحرین کو خراج تحسین پیش کیا۔
 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بحرین کے مظلوم شہداء کو راہ حق کے شہید اور مکتب اہل اہل بیت(ع) کے مدافع قرار دیتے ہوئے بارگاہ خداوندی سے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: صدر اسلام سے ہی شہادت کو ایک عظیم مقام کے عنوان سے جانا جاتا تھا امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو لکھے ہوئے اپنے خط میں اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ خداوند عالم ہم دونوں کی زندگیوں کا شہادت پر خاتمہ کرے۔
انہوں نے کہا: حریم فقاہت کے مدافع شہداء عظیم مقام پر فائز ہوئے ہیں خداوند عالم قیامت میں شہداء کے نامہ اعمال کو ظاہر نہیں کرے گا اور شہادت کی وجہ سے ان کے نامہ اعمال چھپا دئے جائیں گے۔
انہوں نے آل خلیفہ حکومت کے تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت نے ان شہداء کے جنازوں کو ان کے گھر والوں کو نہیں دیا اور انہیں مخفی طور پر دفن کر دیا، میں شہدائے بحرین کے گھر والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایسے جوان تربیت کئے ہیں۔
حجۃ الاسلام اختری نے کہا: یہ شہداء جنہوں نے اسلام اور مکتب اہل بیت(ع) کے دفاع کی راہ میں اپنی قربانیاں پیش کی ہیں یہ پوری امت کے شہداء ہیں نہ صرف بحرین کے۔
 انہوں نے عراق میں آل سعود کے ناپاک عزائم کی طرف اشارہ کیا اور کہا: عراق کے اعلی فوجی افسر نے ایک ایرانی عہدیدار سے کہا تھا کہ اگر ایران، رہبر انقلاب اور مجاہدین نہ ہوتے تو حرم امام حسین (ع) کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے آل سعود کے تاریخچہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ خاندان یہودیوں کی نسل میں سے ہے انہوں نے جنت البقیع کو مسمار کرنے کے بعد کربلا پر حملہ کیا، وہابی مفتیوں نے تمام اہل تشیع کے قتل عام کا فتویٰ دیا، لیکن وہ نہیں جانتے کہ مکتب اہل بیت(ع) ایسا شجرہ طیبہ ہے جسکی جڑوں کو اکھاڑنا اتنا آسان نہیں، آل سعود اور ان سے پہلے بنی امیہ نے اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، لیکن خداوند عالم کا ارادہ ہے کہ مکتب اہل بیت(ع) کا نور کبھی خاموش نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی نے بارہا فرمایا ہے کہ مستقبل اسلام اور مکتب اہل بیت(ع) کا ہے یہ ایک قرآنی وعدہ ہے جو یقینا تحقق پا کر رہے گا۔

ماہ مبارک رمضان کی آمد پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مومنین عالم سے مؤدبانہ اپیل

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماہ مبارک رمضان کی آمد کے موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے یمن کے یتیموں اور بے کسوں کی دستگیری کے لیے دنیا کے مسلمانوں اور روزہ دار مومنوں سے اپیل کی ہے کہ یمن میں آل سعود کے جرائم کا شکار فقیر اور محتاج روزہ داروں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
اسمبلی کے بیان کا مکمل ترجمہ:
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمین؛ و صلی الله علی سیدنا و نبینا محمد و آله الطاهرین.

"يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيامُ کَما کُتِبَ عَلَي الَّذينَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون؛
اے صاحبان ایمان، روزے تمہارے اوپر فرض کر دئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پچھلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے شاید کہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ(سورہ بقرہ، آیت ۱۸۳)
بہنو اور بھائیو!
مومنین اور مومنات!
روزہ دارو اور دنیا کے مسلمانو!
اللہ کے مبارک مہینے، عبادت اور دعا کے مہینے اور فقیر اور محتاج لوگوں کی دستگیری کے مہینے کو خدا کا خوف کھانے والے آپ تمام مومنین کی خدمت میں ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔
پیغمبر اکرم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ کا مہینہ برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کے ساتھ تمہارے پاس آ چکا ہے‘‘، لیکن اس سال کا ماہ رمضان ایسے حال میں پہنچ رہا ہے کہ دنیا کے بہت سارے لوگ فقر اور فاقہ میں بسر کر رہے ہیں۔ اس سال ایسے حالات میں ماہ مبارک رمضان آ رہا ہے کہ بہت سارے مسلمان استعماری طاقتوں؛ امریکہ اور برطانیہ اور ان کے اتحادی آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں جاری مسلسل جرائم کا شکار ہیں اور ہر آئے دن اپنے عزیزوں کو بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا نشانہ بنتے دیکھ رہے ہیں انہیں جلتے بھنتے، ٹکڑے ٹکڑے ہوتے اور ان کے گھر اجھڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔۔۔
 ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ یمن، بحرین، سعودی عرب، شام، پاکستان وغیرہ میں امریکہ اور آل سعود کے ہاتھوں کے پروردہ دھشتگرد، صہیونیت اور اسکے علاقائی اتحادیوں کی حمایت سے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں؛ عورتوں، مردوں، بچوں اور بزرگوں کو خاک و خوں میں غلطاں کر رہے ہیں۔
آل سعود، آل خلیفہ اور جنگ میں ان کے ساتھ شریک دیگر حکمران، جرائم پیشہ امریکہ اور برطانیہ کی براہ راست حمایت سے یمن کے شہر صنعاء، صعدہ، تعز اور دیگر شہروں میں، پاکستان کے شہر پاراچنار، سعودی عرب کے شہر العوامیہ اور بحرین کے شہر الدراز میں ہزاروں بے گناہوں کو قتل، زخمی، قید اور بے گھر کر چکے ہیں اور ان کی زندگیوں کی بنیادی ڈھانچوں کو کھوکھلا اور ویران کر چکے ہیں۔
لیکن یمن کی حالت دیگر ممالک سے کہیں ابتر ہے؛ اس سال کے روزوں کا بابرکت مہینہ ایسے حال میں آن پہنچا ہے کہ دو سال سے زیادہ عرصے سے یمن کے عوام آل سعود، آل یہود اور ان کے حامیوں کے بھیانک زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، اس ملک میں اب قحط کی حالت ہے، وبا کی بیماری اہل یمن کو دھمکا رہی ہے، ہزاروں مسلمان خوراک اور دوا نہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں، اور معصوم بچے دودھ اور دوا کی کمی سے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔
اے شریف اور امیر لوگو!
اے اللہ کے مہینے کے روزہ دارو اور مومن اور صابر نمازیو!
اے مہربان پروردگار کے دسترخوان کے مہمانو!
آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ روزہ داری کا ایک فلسفہ بھوکوں کو یاد کرنا اور بے کسوں اور محتاجوں کی مدد کرنا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اس مہینہ میں کسی مومن روزہ دار کو افطار کرائے، خداوند عالم کے نزدیک اسے ایک غلام کو آزاد کرانے کا ثواب ملے گا اور اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔ بعض اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ ہم سب افطار دینے کی توانائی نہیں رکھتے۔ آپ نے فرمایا: آتش جہنم سے بچو، روزے داروں کو آدھا خرما یا ایک گلاس پانی سے افطاری دے کر۔
یمن کے مظلوم باشندوں اور مسلمانوں کہ جو ہزاروں کی تعداد میں شہید دے چکے ہیں لاکھوں زخمی حالت میں پڑے ہیں اپنے بنیادی ڈھانچوں کو کھو چکے ہیں اور وبا اور دوسری مسری بیماریاں ان کے دامن گیر ہو چکی ہیں ان کے دردناک اور افسوس ناک حالات اور ان کی انسانی تباہی اور معیشتی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے ان کی مدد کی راہ میں ہر انسان کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اس اعتبار سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایران اور دنیا کے تمام انسان دوست افراد خاص طور پر کارہائے خیر میں حصہ لینے والے افراد سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ یمن میں اولاد محمد(ص) کے یتیموں اور مسلمانوں کی مدد کو دوڑئیے، یمن کے یتیموں، زخمیوں، بیماروں اور دردمندوں کو اپنے مبارک دسترخوانوں پر جگہ دیجیے، اپنے افطار اور اپنی خوراک کے کچھ حصے کو ان سے مخصوص کر دیجئے، بھوکوں کا پیٹ بھرئیے اور بیماروں کے لیے دوا فراہم کیجئے اور دکھی اور غم دیدہ لوگوں کو تسلی دیجئے۔
وہ مومنین جو یمن کے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں وہ اس اکاونٹ نمبر 0113130000006 بینک ملی ایران میں اپنی امداد ڈال سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ کی جلد از جلد پہنچنے والی امداد کو ماہ مبارک کے ابتدائی دنوں میں ہی ہم یمن کے بیماروں اور بے کسوں تک پہنچا سکیں گے اور مظلوم شیعوں کے زخموں پر کسی حد تک مرہم لگانے کے قابل ہو سکیں گے۔
"الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِين؛
 وہ لوگ جو خوشی اور تکلیف میں انفاق کرنے والے ہیں، غصے پر قابو پانے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔( سورہ آل عمران، آیت ۱۳۴
                                          اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                            آخر شعبان، ۱۴۳۸ھ

بحرین کے ناگوار حالات اور شیخ عیسی قاسم کے حریم میں تجاوز کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا سخت مذمتی بیان

بدھ, 24 مئی 2017

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے ناگوار حالات اور آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر پر حملے کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک سخت مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں آیا ہے کہ بحرینی حکومت نے ایک سال قبل تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیخ عیسی قاسم اور ۴۷۰ علمی، سماجی اور سیاسی شخصیتوں کی شہریت کو منسوخ کیا اور بارہا انہیں سزا دینے اور گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن دن رات ان کی حفاظت میں لوگوں کی موجودگی نے آل خلیفہ حکومت کو اس گستاخانہ کام کی جرئت نہیں دی۔ لیکن اس وقت جبکہ امریکہ کا منحوس صدر سعودی عرب میں پہنچا اور دھشتگردی کے خلاف نمام نہاد نشستوں کا انعقاد کیا امریکی پٹھو آل خلیفہ کے اندر جسارت پیدا ہو گئی اور ایسا اقدام کرنے پر تل گیا۔
بیان کا مکمل ترجمہ:
بسم الله قاصم الجبارین مبیر الظالمین
«فمَن اعتدَی عَلَیکم فَاعتَدُوا علیه بمثلِ ما اعتدی علیکم». (سوره بقره، آیه 277)
آل خلیفہ کی جرائم پیشہ حکومت ایک سال دھمکیاں دینے کے بعد آخر کار آج بے حیا اور حیوانی صفت گماشتوں کے ذریعے الدراز علاقے کے مظلوم عوام کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے علم و فقاہت کے حریم تک تجاز کرنے کی جرئت کر گئی۔
امریکی اور صیہونی مزدوروں کے اس حملے میں ایک شہری شہید ہوا اور دسیوں زخمی ہو گئے۔
اب ایسے حالات ہیں کہ اس علاقے کے ساتھ تمام مواصلاتی رابطہ ختم ہو چکا ہے اور سکیورٹی اہلکار چیوٹیوں کی طرح وہاں موجود ہیں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے حریم کی ہتک حرمت کی گئی ہے آل خلیفہ کے مزدور ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں اپنی گرفت میں لے چکے ہیں اور اس فقیہ بزرگ کے سرانجام کی کوئی خبر نہیں ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کہ عالم اسلام کی سینکڑوں برجستہ شخصیات جس کی رکن ہیں ایک بین الاقوامی عوامی تنظیم ہونے کے عنوان سے حکومت آل خلیفہ کے ان جرائم کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نیز پوری دنیا کو درج ذیل نکات کی طرف متوجہ کرتی ہے:
۱؛ بحرین کی غاصب حکومت کا یہ تازہ اقدام، عالمی برادری اور حکام کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ چھے سال سے یہ حکومت اپنے مظلوم شہریوں کا قتل، زخمی، قید، شکنجے، ملک بدر، شہریت منسوخ جیسے مظالم ان پر ڈھاتی آ رہی ہے اگر اس کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا تو آج یہ جسارت کرنے کی ہمت نہ کرتی کہ ایک نجیب اور شریف عالم دین کے گھر کی حرمت کو پارہ پارہ کیا جاتا۔
۲؛ بحرینی حکومت نے ایک سال قبل تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیخ عیسی قاسم اور ۴۷۰ علمی، سماجی اور سیاسی شخصیتوں کی شہریت کو منسوخ کیا اور بارہا انہیں سزا دینے اور گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی حفاظت کی راہ میں دن رات لوگوں کی موجودگی نے اسے اس گستاخانہ کام کی جرئت نہیں دی۔ لیکن اس وقت جبہ امریکہ کا منحوس صدر سعودی عرب میں پہنچا اور دھشتگردی کے خلاف نمام نہاد نشستوں کا انعقاد کیا امریکی پٹھو آل خلیفہ کے اندر یہ جسارت پیدا ہو گئی اور ایسا اقدام کرنے پر تل گیا۔
۳؛ لہذا آیت اللہ عیسی قاسم کی جان کی ذمہ داری براہ راست امریکہ اور آل سعود کی گردن پر جاتی ہے کہ جو ان سالوں میں انہوں نے پوری بے شرمی کے ساتھ حمایت کر کے اپنی فوجی مزدوروں کو بھیج کر پشتپناہی کی۔
۴؛  بحرین کے شجاع عوام اور دلیر جوان، اپنی اقلیت کے باوجود بلند ہمت تھے انہوں نے جس طرح گزشتہ گیارہ مہینوں میں حیرت انگیز اور بے مثال حماسہ آفرینی کی اور دن رات اس عالم دین کے گھر کا پہرا دیا اس وقت بھی اس نعرے ’’موت تک دفاع‘‘ کے ساتھ  دین کے حقیقی خدمتگزاروں کو تنہا نہیں چھوڑا۔
۵؛ آخر میں ہم خبردار کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، یورپی یونین، عالمی حکمران، بین الاقوامی تنظمیں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں فوری طور پر آیت اللہ عیسی قاسم کی بلا قید و شرط آزادی کے لیے کوئی موثر قدم اٹھائیں، ورنہ اس ملک میں ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
                      «وَ سَیَعلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوا‌ ای مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُون» (سوره شعراء ـ 227)
                                      اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                           ۲۳،۵،۲۰۱۷      

شیخ عیسی قاسم کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ اقدام کی مذمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

منگل, 23 مئی 2017

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف دئے گئے

ظالمانہ حکم کی مذمت میں ایک بیان جاری کر کے خبردار کیا ہے کہ اس عالم دین اور بحرین کے معنوی رہنما

کے خلاف دئے گئے ناجائز حکم کو اگر اجراء کیا گیا تو ملک کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:


بسم الله الرحمن الرحیم

وَمَنْ لَمْ یحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ مائده 44
وَمَنْ لَمْ یحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ مائده 45


انتہائی افسوس اور حیرانگی کے ساتھ اطلاع ملی کہ آل سعود اور آل خلیفہ کے دباؤ کے نتیجے میں اس

ملک کی اعلی فوجداری عدالت نے ملزمین اور ان کے وکلاء کی حاضری کے بغیر دس رسمی سماعتوں

کے بعد آخر کار اتوار کو بحرینی عوام کے معنوی رہنما، بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم اور دیگر

ملزمین کے خلاف اپنا ظالمانہ حکم جاری کر دیا۔


اس حکم کے مطابق، شیخ عیسی قاسم کا تین ملین بحرینی دینار کی مقدار میں اموال ضبط جبکہ ہزار

دینار جرمانہ عائد کیا گیا نیز ان کو ایک سال قید کی سزا تین سال تک ملتوی کر دی گئی۔


آل خلیفہ جابرانہ حکومت کی عدالت نے یہ حکم دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کے کھاتے میں موجود اموال

اور ان کی ملکیت جو بیت المال اور شرعی وجوہات ہیں کو ضبط کیا جائے۔


 افسوس کے ساتھ ابھی بھی بحرین کی حکومت اپنے سرکوبانہ اقدامات کہ جو سراسر بین الاقوامی

قوانین کے خلاف ہیں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تاہم ۴۶۰ بحرینی

شہریوں کی شہریت کو منسوخ کیا گیا، پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے ۳۲۰ افراد کو شہید

اور ۷۰۰۰ سے زیادہ افراد کو جیلوں میں بند کیا گیا کہ جن میں ۱۵۰۰ افراد نوجوان اور بچے ہیں۔ اسی طرح

ہزاروں افراد سیاسی،سماجی، امنیتی اور مذہبی دباؤ کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں فرار کر گئے ہیں۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی پیروان اہل بیت(ع) کی بین الاقوامی NGO کے عنوان سے آل خلیفہ حکومت

سے مطالبہ کرتی ہے:


۱؛ اپنے ظالمانہ احکامات کو جلد از جلد منسوخ کر کے قومی شانتی کو برقرار کرنے کا زمینہ فراہم کرے اور

ملت بحرین کے جائز مطالبات کا مثبت جواب دے۔


۲؛ ضروری ہے تمام سیاسی قیدیوں منجملہ شیخ علی سلمان اور دیگر قومی اور مذہبی شخصیتوں کو

فوری طور پر رہا کیا جائے اس لیے کہ ان افراد کی رہائی بے شک بحرین میں ایک نیا سیاسی نظام وجود

میں لانے اور چند سالہ بحران کو خاتمہ دینے کے لیے موثر کردار ادا کرے گی۔


۳: بحرین سے ملک بدر کئے گئے تمام افراد کو واپس ملک میں آنے کی اجازت دی جائے اور جن افراد کی

شہریت کو غیر قانونی طور پر منسوخ کیا گیا ہے انہیں واپس لوٹایا جائے۔

مسجدوں میں حاضری سے مومنین کے اندر بصیرت، محبت اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماہ مبارک رمضان کی آمد کے موقع پر مساجد کی صفائی کے عشرے میں اہل

بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو

کرتے ہوئے کہا: مساجد اللہ کا گھر اور الہی فرامین کو انجام دینے کے مقدس مقامات ہیں لہذا مسجدیں

مسلمانوں کے افکار کو ایک دوسرے سے قریب کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔


انہوں نے مزید کہا: لوگوں کا مسجدوں میں حاضر ہونا ایک دوسرے سے قربت، محبت اور ہمدردی کا باعث بنتا

ہے لہذا ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مسجدوں کی طرف راغب کریں تاکہ ان میں

یکجہتی، اتحاد، محبت اور باہمی تعاون کا جذبہ پیدا ہو


جناب حجۃ الاسلام اختری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مسجد لوگوں کے درمیان محبت اور الفت

پیدا کرنے کا ایک بنیادی مرکز ہے، کہا: مختلف طبقوں اور قبیلوں کے لوگوں کے مسجدوں میں ایک ساتھ اکٹھا

ہونے سے ان کے درمیان تبادل آراء کا بستر مہیا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے افکار اور تجربات سے آگاہی کا

موجب بنتا ہے اور در نتیجہ ان میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔


انہوں نے کہا: مساجد میں مختلف پروگراموں کے انعقاد، علماء کی تقاریر اور دینی گفتگو سے مومنین کی

معلومات میں اضافہ اور دینی شعور اجاگر ہوتا ہے۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے متعدد بار فرمایا

ہے کہ مسجدوں وغیرہ میں تعلیمی کلاسوں کے انعقاد کے ذریعے سماج کی بالیدگی میں تعاون کریں اس

لیے کہ اس صورت میں مساجد کو اتحاد، یکجہتی، محبت اور ہمدلی کے مراکد میں تبدیل کیا جاتا سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے گھر عصر حاضر میں سافٹ وار کے مقابلے میں اہم مورچوں کا رول ادا کر سکتے

ہیں اور دشمنوں کی طرف سے ہونے والی ثقافتی یلغار کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں۔


محمد حسن اختری نے کہا کہ دشمن یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مسجدیں خالی ہو جائیں، غیر فعال ہو

جائیں لیکن ہمیں انہیں فعال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اس لیے کہ اللہ کے گھروں کا فعال ہونا سماجی

مشکلات کو دور کرنے کا سبب بنے گا۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے روسی زبان میں دینی کتابیں منظر عام پر آگئیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماسکو کے ادارہ ’’اسلامی مطالعات‘‘ نے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے

روشناس کرانے کی راہ میں ایک عظیم قدم اٹھاتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے ‘‘پیغمبر

اور صحابہ‘‘ ،’’میزبان آفتاب‘‘ اور ’’مسکراتی کلیاں‘‘ کے زیر عنوان کتابیں منظر عام پر لائی ہیں۔


کتابوں کا یہ مجموعہ نہ صرف مسلمان بچوں بلکہ غیر مسلمان بچوں کے لیے بھی انتہائی دلچسب ہے اس

مجموعہ کو منظر عام پر لانے کا مقصد بچوں کو پیغمبر اکرم اور اہل بیت اطہار علہیم السلام کی زندگیوں سے

 آشنا کروانا ہے۔

[12 3  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
6+5=? سیکورٹی کوڈ