مصری شیعہ مفکر: مزاحمت ہی حقیقی امن کی دعوت کی بنیاد ہونی چاہئے

ڈاکٹر ابوالخیر نے کہا کہ امن و انصاف کا قیام اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب مسلمانوں میں اتفاق نظر پیدا ہو اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت کو اپنا شعار بنایا جائے۔
مصری شیعہ مفکر: مزاحمت ہی حقیقی امن کی دعوت کی بنیاد ہونی چاہئے

مصری شیعہ مصنف ڈاکٹر ’علی ابو الخیر‘ نے " عالمی اتحاد برائے امن و انصاف ورچوئل کانفرنس " میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے بارے میں اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امن و انصاف کا قیام اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب مسلمانوں میں اتفاق نظر پیدا ہو اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت کو اپنا شعار بنایا جائے۔
ڈاکٹر علی ابو الخیر نے کہا: ہم مسلمانوں کو اس صورتحال سے بخوبی آگاہ رہنا چاہیے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسلام کے اصولوں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کو اپنا مشن قرار دے کر اس راہ میں گامزن رہنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر مزید زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے نظریات ایک دوسرے سے قریب کرنا چاہیے اور لاینحل مسائل جیسے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مسلمانوں کو یک مشت ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے ’عالمی اتحاد برائے امن و انصاف دوسری ورچوئل کانفرنس‘ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں دنیا کے بعض معروف دانشوروں نے شرکت کی۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
4-3=? سیکورٹی کوڈ