اسمبلی کی خبریں

خبریں

رہبر انقلاب اسلامی کے حکم سے عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے نئے سیکریٹری جنرل کا تقرر

رہبر انقلاب اسلامی کے حکم سے عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے نئے سیکریٹری جنرل کا تقرر

ہفتہ, 24 اگست 2019

کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی انقلاب کے رہبر معظم نے اپنے حکم کے ذریعے حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر رضا رمضانی کو عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اس حکم میں اسمبلی کے سیکریٹری جنرل کو "حساس بین الاقوامی حالات نیز پیروان اہل بیت علیہم السلام کے اہم مقام کے تقاضوں کے مطابق ارتقائی رجحان" اور "جوان، مفید و مؤثر اور تجربہ کار فکری قوتوں سے فائدہ اٹھانے" کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نیز رہبر معظم نے حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن اختری کی طویل المدت اور مخلصانہ خدمات کا شکریہ ادا کیا۔  

واضح رہے کہ جناب ڈاکٹر رمضانی 12 سال کے عرصے سے یورپ میں دینی اور تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ (آسٹریا میں ویانا کے امام علی(ع) اسلامی مرکز کے سربراہ: سنہ 2006ع‍ سے 2009ع‍ تک اور جرمنی میں ہیمبرگ اسلامی مرکز کے ڈائریکٹر: سنہ 2009ع‍ سے 2018ع‍ تک)۔

ڈاکٹر رمضانی فارسی، عربی، انگریزی، جرمن، مالائی اور ترکی زبانوں میں 60 سے زائد علمی کاوشوں کے خالق ہیں اور خبرگان قیادت کونسل کے چوتھے اور پانچویں دور میں صوبہ گیلان کے عوامی نمائندے رہے ہیں۔


705179dfb1999e7852f24db64641f8b5_959.jpg


* رہبر انقلاب اسلامی کے رہبر معظم آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے حکم کا مکمل متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب حجت‌الاسلام والمسلمین آقائے الحاج شیخ رضا رمضانی دام‌ توفیقہ

عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے محترم اراکین کی تجویز پر، جناب عالی کو ـ جو کہ اخلاص، علمی تجربے اور بیرون ملک طویل فعالیت جیسے پس منظر کے مالک ہیں ـ اس اسمبلی کا سیکریٹری جنرل مقرر کرتا ہوں۔

امید ہے کہ آپ ارتقائی نقطۂ نظر اور حساس بین الاقوامی حالات نیز پیروان اہل بیت علیہم السلام کے اہم مقام کے تقاضوں پر استوار انداز فکر نیز جوان، مفید و مؤثر اور تجربہ کار فکری قوتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، علماء و مفکرین ـ بالخصوص اسمبلی کی سپریم کونسل اور مجلس عمومی کے اراکین ـ کے ساتھ مؤثر رابطوں کے بدولت خالص اسلام کی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور امت مسلمہ کی وحدت و یکجہتی کے فروغ میں کامیاب و کامران ہوں۔

ضروری سمجھتا ہوں کہ اسمبلی کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں جناب حجت الاسلام آقائے اختری کی طویل المدت اور مخلصانہ محنت اور کوششوں کا شکریہ ادا کروں۔

حضرت حق تعالی سے فرائض منصبی میں سب کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔

سید علی خامنہ ای


* سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کا عہدہ

عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی ایک عالمی غیر سرکاری تنظیم ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار مفکرین کے ہاتھوں، ولایت فقیہ کے مقامِ معظم، مسلمانوں کے ولی امر اور عالم تشیّع کی مرجعیت عالیہ کی نگرانی میں تاسیس ہوئی ہے۔ اس اسمبلی کی ذمہ داری خالص محمدی اسلام کو متعارف کروانا، قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے معارف و تعلیمات کی نشر و اشاعت، خاندان رسول(ص) کے حبداروں اور پیروکاروں کو منظم کرنے، تعلیم و تربیت فراہم کرنے اور ان کی پشت پناہی کرنے نیز اسلامی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لئے کوشش کرنے، سے عبارت ہے۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کا سربراہ اور منتظم اعلی ہوتا ہے جو اسمبلی کے انتظام و انصرام اور منظور شدہ پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ کے لئے اسمبلی کی سپریم کونسل کے اراکین کے ذریعے منتخب اور ولی امر مسلمین کے حکم سے متعین ہوتا ہے۔

 

* عالمی اہل بیت(ع) کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیات یوم تاسیس سے آج تک:

اب تک پانچ افراد سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لئے منتخب ہوئے ہیں جو عالم اسلام کی سطح پر جانی پہچانی شخصیات اور ممتاز صاحبان علم و دانش ہیں:

1۔ آيت اللہ محمدعلی تسخيری؛ دسمبر 1990 سے اگست 1999ع‍ تک۔

2۔ ڈاکٹر علی اکبر ولايتی؛ اگست 1999 سے اکتوبر 2002ع‍ تک۔  

3۔ آيت اللہ محمد مہدی آصفی(رح)؛ اکتوبر 2002 سے مارچ 2004ع‍ تک۔

4۔ حجت الاسلام والمسلمين محمدحسن اختری؛ مارچ 2004 سے اگست 2019ع‍ تک۔

5۔ حجت الاسلام والمسلمين ڈاکٹر رضا رمضانی؛ اگست 2019ع‍ سے ۔۔۔۔

 

cd0d165e9302c73978d21d8cbf01c48a_155.jpg


مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے سابق سربراہ: آيت الله محمدعلی تسخيری

cf5d3c0bfc6069452f2473d6904da38b_914.jpg


مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے سابق سربراہ: ڈاکٹر علی اکبر ولايتی

fd107bec4a5eaaed6441a46280dcc929_942.jpg


مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے سابق سربراہ: آيت الله محمدمهدی آصفی(ره)

55920d53679f5b2b0d7fafb061a99e49_627.jpg


مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے سابق سربراہ: حجت الاسلام والمسلمين محمدحسن اختری

9876c9a3f300f29c8ee619765c1ad768_219.jpg


مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے نئے سربراہ: حجت الاسلام والمسلمين رضا رمضانی

.......

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ تصویری رپورٹ/ ’’طلوع حقیقت‘‘ کانفرنس میں میڈیا کا کردار

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ تصویری رپورٹ/ ’’طلوع حقیقت‘‘ کانفرنس میں میڈیا کا کردار

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے منعقدہ طلوع حقیقت کانفرنس کو کیوریج دینے کے لیے میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا
اور کانفرنس میں شریک اہم شخصیات سے انٹرویو لئے۔ اس کانفرنس میں
اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ظریف، مشیر رہبر انقلاب ڈاکٹر ولایتی اور دفتر رہبری کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد محمدی گلپائیگانی نے تقاریر کیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے تصویری رپورٹ/ ’’امام ہادی (ع) کی سیرت اور ان کا دور‘‘ کے زیر عنوان قم میں کانفرنس کا انعقاد

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے تصویری رپورٹ/ ’’امام ہادی (ع) کی سیرت اور ان کا دور‘‘ کے زیر عنوان قم میں کانفرنس کا انعقاد

بدھ, 06 دسمبر 2017

 امام ہادی علیہ السلام کی سیرت اور ان کا دور کے زیر عنوان قم میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔

آیت اللہ عیسی قاسم کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت انسانی حقوق کے عہدیداروں کے نام خط

آیت اللہ عیسی قاسم کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت انسانی حقوق کے عہدیداروں کے نام خط

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی تشویشناک جسمانی صورتحال کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سات دیگر بین الاقوامی عہدیداروں کے نام ایک اہم خط تحریر کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس خط کے ذریعے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل اطمینان ڈاکٹروں کی ٹیم کا مطالبہ کیا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ’’انتونیو گوٹیرس‘‘ کے نام خط کا مکمل ترجمہ:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم جناب انتونیو گوٹیرس صاحب
سیکرٹری جنرل برائے اقوام متحدہ
سلام علیکم
بعد از احترام، آپ جناب کی دنیا کے ممالک خاص طور پر بحرین میں انسانی حقوق کے دفاع کے حوالے سے قابل قدر کاوشوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کو اس خط کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے کہ افسوس سے بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی میں نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے ایک تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر پر محاصرہ کئے جانے اور طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کے متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سے آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ جس کے ۱۲۰ ممالک سے اہم شخصیات رکن ہیں ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتے ہیں:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت اور نقاحت کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے ختم ہو جانے سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف طریقوں سے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم عالمی تنظیم ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر محاصرے کو خاتمہ دینے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناگوار حادثہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
                                          مخلصانہ احترام کے ساتھ
                                            محمد حسن اختری
                             سیکرٹری جنرل برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                            ۳۰،۱۱،۲۰۱۷

یہ خط اسی مضمون کے ساتھ درج ذیل چھے عہدیداروں کے نام بھی ارسال کیا گیا: 
یورپی کمیشن کے سربراہ مسٹر جین کلاڈ جنکر؛
یورپی پارلیمان کے صدر، انتونیو تاجانی؛
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے لئے ذمہ دار مسز موگرینی؛
اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر امیر زید رعد الحسن؛
اقوام متحدہ کی شعبہ مذہبی آزادی کی خصوصی رپورٹر محترمہ آسماء جہانگیر؛
غیر ملکی ڈاکٹروں کی تنظیم کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر جوآن لیو.

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

جمعرات, 30 نومبر 2017

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جسمانی صورتحال کی بحرانی کیفیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹر کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیانیہ کا مکمل ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل
افسوس کی بات ہے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن ’’آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم‘‘ کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن بھی کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر کو محاصرہ کرنے کے بعد انہیں طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کو متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک بین الاقوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتی ہے:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت سن اور نقاحت بدن کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے خاتمہ سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف حربوں کے ذریعے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ اور اس بار بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم اس عالمی تنظیم عہدہ دار ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ایل ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر کا محاصرہ خاتم کرنے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناخوش گوار واقعہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۳۰،۱۱،۲۰۱۷

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

جمعرات, 30 نومبر 2017

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جسمانی صورتحال کی بحرانی کیفیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹر کا مطالبہ کرتی ہے۔

 

 

11345046e05d6e903b0357de307676dd.jpg


بیانیہ کا مکمل ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل
افسوس کی بات ہے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن ’’آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم‘‘ کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن بھی کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر کو محاصرہ کرنے کے بعد انہیں طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کو متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک بین الاقوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتی ہے:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت سن اور نقاحت بدن کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے خاتمہ سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف حربوں کے ذریعے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ اور اس بار بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم اس عالمی تنظیم عہدہ دار ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ایل ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر کا محاصرہ خاتم کرنے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناخوش گوار واقعہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۳۰،۱۱،۲۰۱۷

مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے: آقائے اختری

مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے: آقائے اختری

’’مہدوی کلچر کی توسیع اور میڈیا‘‘ کے زیر عنوان تہران میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام مہدی (عج) کی امامت کے دور میں پوری دنیا پر عدل الہی حاکمفرما ہو گا اور پوری دنیا اسی دور کی انتظار میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آج کا سماج ایسا آئیڈیل سماج نہیں ہے جو ہمیں مہدویت کے مقصد کی طرف رہنمائی کر سکے۔ لہذا ہمیں ایسا سماج تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم مہدوی کلچر کو متعارف کروا سکیں اور اس راہ میں میڈیا کا کردار سب سے اہم نظر آتا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ پوری دنیا کی ۷ ارب آبادی میں ۳۶۰ ملین شیعہ ہیں جبکہ ساڑھے چھے ارب آبادی مہدویت کے موضوع سے ناآشنا ہیں۔ اس اعتبار سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم مہدوی کلچر اور مہدوی حکومت کے خد و خال سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے دن رات زحمت اور محنت کریں۔
انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دنیا میں مہدوی کلچر کی توسیع کی راہ میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے کہا: مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت کا ایک اہم طریقہ اس طرح کے موضوعات پر کانفرنسوں اور علمی نشستوں کا انعقاد ہے۔
انہوں نے کہا: آج انجیل اور توریت کو ۲ ہزار پانچ سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے لیکن ہم قرآن کریم کو ۱۵ زندہ زبانوں میں بھی ترجمہ نہیں کر سکے ہیں۔ اسی طرح نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ جو امام معصوم کا کلام ہے کو صحیح طریقے سے پہچنوا نہیں پائے ہیں۔
آقائے اختری نے تاکید کی کہ ہمیں اسلامی تعلیمات اور مہدوی کلچر کو دنیا کی زندہ زبان میں منتقل کر کے اس کی ترویج کرنا چاہئے۔ اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے ذرائع ابلاغ میں اثر و رسوخ پیدا کر کے ان ذرائع سے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: غیروں کا میڈیا اسلام مخالف سازشوں کے ذریعے مہدویت کے چہرے کو خدشہ دار کرنے میں جھٹا ہوا ہے۔ اسلام کو بدنام کرنے میں ان کا ایک کام یہ ہے کہ وہ تکفیری اور دھشتگرد ٹولیوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اسلام کو بدنام کروائیں ان سے مہدویت کے خلاف پروپیگنڈے کروائیں یہ لوگ خانہ خدا اور حرم رسول خدا(ص) سے حقیقی اسلام کی تعلیمات اور مہدوی کلچر کے خلاف تبلیغ کریں۔
انہوں نے کہا: دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں سائبری فضا سے لے کر اخباروں اور ٹی وی چینلوں تک ہر جگہ مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں کوشاں رہنا چاہیے۔

داعش کی نابودی پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا جنرل قاسم سلیمانی کو تہنیتی پیغام

داعش کی نابودی پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا جنرل قاسم سلیمانی کو تہنیتی پیغام

عراق و شام میں بدنام زمانہ تکفیری ٹولے داعش کی بھاری شکست اور مزاحمتی قوتوں کی عظیم کامیابی کے بعد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بٹالین کے کمانڈر ان چیف قاسم سلیمانی کو ایک تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔
اس تہنیتی پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
للهِ الأمرُ مِن قَبلُ و مِن بَعدُ و يَومَئِذٍ يَفرَحُ المُؤمِنُون؛ بِنَصرِ اللهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ و هُوَ العَزیزُ الرَّحيم. (روم، 4 و 5)
(اللہ ہی کے لئے اول و آخر ہر زمانے کا اختیار ہے اور اسی دن صاحبان ایمان خوشی منائیں گے اللہ کی نصرت اور مدد کے سہارے کہ وہ جس کی امداد چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ صاحب عزت بھی ہے اور مہربان بھی)

برادر ارجمند جناب الحاج قاسم سلیمانی دام عزہ
قدس فورس کے کمانڈر ان چیف
سلام علیکم
انتہائی خوشی اور افتخار کا مقام ہے کہ دھشتگرد اور تکفیری ٹولیوں منجملہ ’’ خونخوار تکفیری ٹولی داعش‘‘ کہ جو وہابی تکفیری تفکر، آل سعود، آل یہود اور دیگر تشدد پسندانہ شیطانوں کی مالی حمایت اور امریکہ، برطانیہ، صہیونی ریاست اور اس کے اتحادیوں کی اسلحہ جاتی پشت پناہی کے ساتھ چھے سال علاقے میں طغیان گری اور خون خرابے میں مصروف تھے کی نابودی اور ’’اصلاح اور مزاحمت کی قوتوں‘‘ کی ’’دھشتگرد اور باطل طاقتوں‘‘ پر عظیم کامیابی کا جشن ماہ ربیع الاول کے مبارک ایام میں منا رہے ہیں۔ 
بے شک یہ نصرتِ عظیم رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی حکیمانہ تدبیروں اور دقیق حمایتوں کی مرہون منت ہے جو باعث بنیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، عراق اور شام کی فوج، حشد الشعبی، حزب اللہ لبنان، افغانستان اور پاکستان کے فی سبیل اللہ مجاہدوں کی چھے سالہ مسلسل جانفشانیوں اور مجاہدتوں نے تکفیری ٹولے داعش کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا اور حرم اہل بیت اور ان کے پیروکاروں کے لئے امن و سکون کی فضا فراہم کر دی۔
اس درمیان آپ کی بابصیرت، شجاعانہ اور مدبرانہ کاوشیں ہیں جنہوں نے اس کے علاوہ کہ عالمی استکبار کو مایوس کر دیا تکفیری دھشتگردوں کو بھاری شکست سے دوچار کر کے نابود کر دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی شہید پرور قوم کو سربلندی اور سرفرازی عطا کی۔
اللہ کا یہ سچا وعدہ جو ان صاحبان ایمان کے لیے ہے جو ظالموں کے مقابلے میں اللہ کی قدرت پر ایمان رکھتے ہیں، محقق ہو گیا: "و قَد مَکَرُوا مَکرَهُم وَ عِندَ اللَّهِ مَکرُهُم وَ إن کانَ مَکرُهُم لِتَزُولَ مِنهُ الجِبال؛ فَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِ رُسُلَهُ إنَّ اللَّهَ عَزیزٌ ذُو انتِقام". (ابراهیم، 46 و 47) ( اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کر دیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگر چہ ان کا مکر ایسا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔ تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے)۔
بارگاہ الہی میں سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے اس عظیم فتح الفتوح کو آپ کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں نیز مختلف ملکوں کے مدافع حرم عزیز شہیدوں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے انکے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ان کی امانتوں کی حفاظت میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔

با احترام
محمد حسن اختری
سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

[12 3 4 5  >>  

جدیدترین نرم افزارها

جدیدترین نرم افزارها

مراکز و پایگاه‌های وابسته

عالمی اہل بیت اسمبلی

مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام)، به عنوان یک تشکل جهانی و غیردولتی، از طرف گروهی از نخبگان جهان اسلام تشکیل شده است. اهل‎بیت(علیهم‎السلام) به این دلیل بعنوان محور فعالیت انتخاب شده‎اند که در معارف اسلامی در کنار قرآن، محوری مقدس را که مورد پذیرش عامه مسلمین باشد، تشکیل می‎دهند.
مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام) دارای اساسنامه‎ای مشتمل بر هشت فصل و سی و سه ماده است.

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
2-2=? سیکورٹی کوڈ