پروگرامز اور کانفرنسیں

تصویری رپورٹ/ گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت

تصویری رپورٹ/ گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" کتاب کی نقاب کشائی-2

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے ۵۴ ویں سال کے موقع پر "گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" نامی کتاب کی ثقافتی اور سیاسی شخصیتوں کی موجودگی میں نقاب کشائی کی گئی۔ اس کتاب کی نقاب کشائی کی تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے سربراہ اور فلسطینی عوام کی حمایتی کمیٹی کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری، دفاعی نظام میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان، ایران میں فلسطین کے سفیر صلاح الزواوی اور شام کے سفیر ڈاکٹر شفیق دیوب نے گفتگو کی۔

تصویری رپورٹ/ گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت

تصویری رپورٹ/ گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" کتاب کی نقاب کشائی-1

گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے ۵۴ ویں سال کے موقع پر "گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" نامی کتاب کی ثقافتی اور سیاسی شخصیتوں کی موجودگی میں نقاب کشائی کی گئی۔ اس کتاب کی نقاب کشائی کی تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے سربراہ اور فلسطینی عوام کی حمایتی کمیٹی کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری، دفاعی نظام میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان، ایران میں فلسطین کے سفیر صلاح الزواوی اور شام کے سفیر ڈاکٹر شفیق دیوب نے گفتگو کی۔

"گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" نامی کتاب کی نقاب کشائی، گولان بھی دیگر مقبوضہ علاقوں کی طرح آزاد ہو گا

گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے ۵۴ ویں سال کے موقع پر "گولان کے اسٹریٹجک خطے کی اہمیت" نامی کتاب کی ثقافتی اور سیاسی شخصیتوں کی موجودگی میں نقاب کشائی کی گئی۔
اس کتاب کی نقاب کشائی کی تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے سربراہ اور فلسطینی عوام کی حمایتی کمیٹی کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری، دفاعی نظام میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان، ایران میں فلسطین کے سفیر صلاح الزواوی اور شام کے سفیر ڈاکٹر شفیق دیوب نے گفتگو کی۔
نیز کئی دیگر ممتاز سیاسی اور ثقافتی شخصیات منجملہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے متعلق امور کے اسسٹنٹ وزیر میر مسعود حسینی، ایران میں نمائندہ حماس خالد قدومی، ایران میں جہاد اسلامی کے نمائندے ناصر ابوشریف، قدس نیوز ایجنسی کے چیف ایڈیٹر ایرج سبقتی اور دفاعی کمیٹی برائے ملت فلسطین کے ڈپٹی ڈائریکٹر مہدی شکیبائی نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے چیف ایڈیٹر حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی عارف اور کتاب کے مولف جناب علی شاکر نے کتاب کے حوالے سے مختصر رپورٹ پیش کی۔

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ امینی کی پہلی برسی پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے ورچوئل مجلس ترحیم کا انعقاد

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ امینی کی پہلی برسی پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے ورچوئل مجلس ترحیم کا انعقاد

 امام خمینی (رہ) کے قدیم ساتھی، عالم مجاہد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے سب سے پہلے سربراہ آیت اللہ ابراہیم امینی کی پہلی برسی کے موقع پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے وچوئل مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ اس مجلس ترحیم سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے سیکرٹری حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابوالحسن نواب نے خطاب کیا اور الحاج حسن اسد اللہی نے مصائب اہل بیت(ع) کا ذکر کیا۔

۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا مقصد پیروان اہل بیت(ع) کی قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانا ہے: ڈاکٹر زارعان

۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا مقصد پیروان اہل بیت(ع) کی قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانا ہے: ڈاکٹر زارعان

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے ایک بین الاقوامی فیسٹیول کی صورت میں ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کہ جو قرآن کریم کے ایک سو چودہ سوروں کے نام پر رکھا گیا ہے پوری دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے دینی مراکز، مبلغین اور قرآنی فعال افراد کے درمیان منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ فیسٹیول تین حصوں؛ آرٹ میڈیا مصنوعات کی تیاری، آرٹ میڈیا مصنوعات کی نشر و اشاعت اور تبلیغی سرگرمیوں کی انجام دہی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اور ہر شرکت کرنے والا بغیر کسی قید و شرط کے اپنے آثار فیسٹیول کے کسی بھی حصے میں اس ایڈرس www.114award.ir پر ارسال کر سکتا ہے۔
فیسٹیول کی مشاورتی خدمات حاصل کرنے اور اپنی مصنوعات اندراج کرنے کی پہلی تاریخ ماہ رمضان کا آغاز ہے اور اپنی دستاویزات بھیجنے کی آخری تاریخ ۵ جون ہے ۲۲ جولائی کو انہیں فیصلہ کرنے کے لیے ریفری کے پاس بھیج دیا جائے گا ۲۳ جولائی کو ایران میں ورکشاپ کا آغاز ہو گا اور ۲۹ جولائی ۲۰۲۱ کو عید غدیر کے موقع پر فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہو گی۔  
اس قرآنی فیسٹیول کے حوالے سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد جواد زارعان سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اسلام اور تعلیمات اہل بیت(ع) کے فروغ کے لیے اس فیسٹیول کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن کے موضوع پر کام کرنا اس عنوان سے کہ وہ ثقلین کا حصہ ہے اور نبی مکرم (ص) نے اس کی تاکید کی ہے تمام مسلمانوں کے نزدیک بہت ضروری ہے، قرآن کریم پروردگار عالم کا کلام ہے اور رسول اسلام (ص) کا معجزہ ہے نیز انسان کے لیے کتاب ہدایت ہے لہذا ہر مسلمان، اہل بیت(ع) کے ہر پیروکار اور ہر شیعہ کے نزدیک قرآن کو اسلام کا بنیادی رکن سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آج دشمنان اسلام کے پروپیگنڈوں میں سے ایک مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے انہیں قرآن کریم کی تعلیمات سے دور رکھنا ہے، اس طریقے سے کہ اہل سنت قرآن کو اختیار کر لیں اور شیعہ اہل بیت کو، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے پیغمبر اکرم کی تاکید کے مطابق تمام مسلمانوں کو قرآن اور اہل بیت(ع) دونوں کا دامن تھامنا ہو گا۔
ڈاکٹر زارعان نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے اسلامی انقلاب اور شہداء کے خون کی برکت اور رہبر انقلاب اسلامی کی حسن تدبیر کے طفیل اسلامی جمہوریہ ایران میں قرآن کریم پر کافی کام ہوا ہے۔

قرآن کی بہار کے موسم میں فیسٹیول کا انعقاد
انہوں نے مزید کہا: ماہ رمضان قرآن کریم کی بہار کا موسم ہے، اس کی تلاوت، اس کی تفسیر اور اس پر غور و فکر کا مہینہ ہے، اسی وجہ سے ماہ رمضان کو اس فیسٹیول کے انعقاد کے لیے انتخاب کیا گیا ہے اور اس فرصت کو ہم نے غنیمت شمار کیا ہے۔ اور چونکہ پوری دنیا میں بھی پیروان اہل بیت (ع) قرآن کریم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ہمارا جو فی الحال اس فیسٹیول میں مقصد ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان سرگرمیوں کو متعارف کروائیں، ان کی حمایت کریں اور انہیں منظم کریں جو پہلے سے انجام پا رہی ہیں۔ ۱۱۴ عالمی فیسٹیل اسی مقصد کے پیش نظر منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا دیگر فیسٹیولز کے ساتھ فرق یہ ہے کہ یہ فیسٹیول خود اہل بیت(ع) سینٹرز کے ذریعے منعقد کیا جا رہا ہے یعنی ہم مخاطبین کو فعالیت انجام دینے کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ فعالیتیں انجام پا چکی ہیں یا انجام پا رہی ہیں اور ہمیں صرف انہیں متعارف کروانا ہے۔ اس وقت تو کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ تر فعالیتیں آنلاین ہیں۔
ڈاکٹر زارعان نے ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا: مختلف ادارے قرآنی فیلڈ میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارا تعاون قبول کریں تاکہ اہل بیت(ع) سے وابستہ معاشرے کی فعالیتوں پر مبنی ایک قابل قدر فیسٹیول منعقد کیا جائے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فیسٹیول کا پہلا دور قرآن کریم کے آرٹ میڈیا فعالیتوں پر منحصر ہے کہا: کورونا کے سخت حالات میں کئی ویب سائٹیں اور سافٹ ویئرز بنائے گئے ہیں یا ان میں وسعت لائی گئی ہے۔

ایکنا نیوز فیسٹیول کی خبروں کو شائع کرنے کا اہم ذریعہ
ڈاکٹر زارعان نے اس قرآنی فیسٹیول کے متعلق خبروں کو شائع کرنے کے لیے ایکنا نیوز ایجنسی کو بہترین ذرائع ابلاغ میں سے قرار دیا اور کہا: تمام خبررساں ادارے اور نیوز ایجنسیاں فیسٹیول کے اعلان کو مختلف زبانوں میں شائع کر کے ہمارا تعاون کریں۔ اس بات کے پیش نظر کہ یہ فیسٹیول اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے تمام فعالیتوں میں اہل بیت اطہار کو مرکزیت دی گئی ہے اور اس پہلے دور کے فیسٹیول کا ایجنڈا "اہل بیت(ع) وحی کے ترجمان" انتخاب کیا گیا ہے۔ اس معنی میں کہ رسول اسلام کے فرمان کے مطابق " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی" ثقل اکبر قرآن اور ثقل اصغر اہل بیت(ع) کو کلام الہی کے ترجمان کے عنوان سے فیسٹیول کا موضوع قرار دیا گیا ہے۔
حجۃ الاسلام زارعان نے قرآنی امور میں مزید تشویق و ترغیب کی خاطر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے انعامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس فیسٹیول میں مختلف شعبے پائے جاتے ہیں اور بہترین کاوشوں پر انعامات دئیے جائیں گے لیکن اس فیسٹیول کو موصول ہونے والی کاوشیں اہل بیت(ع) عالمی چینل کے اراکین اور دیگر مخاطبین کی رسائی میں قرار دئیے جائیں گے یعنی فیسٹیول کا بنیادی مقصد انعامات دینا نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جو قرآنی میدان میں فعالیت انجام دیتے ہیں وہ بالکل انعام کے چکر میں نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے پروردگار سے انعام حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں ہمارا بنیادی مقصد ان کاوشوں کو متعارف کروانا، ان کی حمایت کرنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔
انہوں نے اس فیسٹیول میں شرکت کی دعوت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی چینل پر مشتمل ہے جس میں علماء، مولفین اور دانشور مرد و زن شامل ہیں۔ پہلی نگاہ میں تقریبا اہک ہزار افراد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں جو مختلف ممالک میں مقیم ہیں اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی مختلف ممالک میں تین ہزار مبلغین کے ساتھ رابطے میں ہے اور تقریبا ۱۵۰ ممالک میں یہ مبلغین تبلیغی فعالیتوں میں سرگرم ہیں اور ان کے ایمیل ایڈرس اور فون نمبر ہمارے پاس موجود ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ دیگر اداروں کے تعاون کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سازمان فرہنگ و ارتباطات، مجمع تقریب مذاہب، جامعۃ المصطفیٰ، ایکنا نیوز ایجنسی اور دیگر بین الاقوامی سطح پر فعالیت کرنے والے ادارے اس فیسٹیول میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان اور محققین کی ملاقات

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان اور محققین کی ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان، عہدیداران اور محققین نے قم دفتر میں بروز منگل اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی سے ملاقات کی۔

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کو قم کی روڈ صفائیہ پر نمائش میں لگایا گیا۔

جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب ۱۱ مارچ بروز جمعرات عید بعثت کے دن منعقد ہوئی اس میں تین سالہ علمی کاوشوں؛ کتابوں، مقالات، تراجم اور قیمتی تحقیقات نیز ۴۲ علمی نشستوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔
سیمینار کی اختتامی تقریب کے اصلی مقرر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے بعثت پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف اور اس کے آثار و برکات کو بیان کیا۔
پیغمبر اکرم کی بعثت اور انسان کا مقام
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے بعثت کی برکتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بعثت کے بعض آثار و برکات یہ تھے کہ لوگوں کو مادی زندگی سے معنوی زندگی کی طرف مائل کرے، اور انسان کو وحی الہی کی نگاہ سے پہچنوائے۔ نیز خدا انسان کا معلم ہو اور انسان تعلیم حق کا متعلم۔
انہوں نے مزید کہا: بعثت ان پابندیوں اور زنجیروں سے چھٹکارا دیتی ہے جن میں انسان خود کو جھکڑتا ہے۔ بعثت کا اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ بشریت عظمت اور وقار کی راہ پر حرکت کرے اور لوگ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کمال کی راہ پر چلیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: خداوند عالم نے قرآن کریم میں خود کو "اکرم" پہچنوایا ہے، اس کے فرشتے بھی کرامت کی منزل پر فائز ہیں اور اس کی کتاب بھی کرامت کی صفات کی مالک ہے، اس کا پیغمبر بھی کریم ہے لہذا یقینی طور پر اگر انسان خدائے اکرم کی تعلیمات سے مستفیذ ہوں گے تو ان میں بھی کرامت اور بزرگی پیدا ہو گی۔
اس اسلامی اسکالر نے مزید کہا: مکارم اور محاسن میں فرق یہ ہے کہ محاسن دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے حاصل ہوتے ہیں لیکن کرامت خود انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کا نفس کیسے تربیت پاتا ہے۔ اگر انسان کی روح کریمانہ ہو گی تو اس کے نفس میں وسعت پیدا ہو گی۔
جناب ابوطالب سیمینار کے لیے کئی سال جد وجہد
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیمینار میں علمی مقالات پیش کرنے اور کتب تحریر کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا سیمینار کے منتظمین، اسمبلی کے کارکنان اور خصوصا مراجع تقلید کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کا پلان ۲۰۱۷ کے اواخر میں میں طے پایا اور گزشتہ سال یہ سیمینار منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: بعض مشکلات کے باوجود یہ ارادہ بنا لیا گیا کہ یہ بین الاقوامی سیمینار اسی سال فیزیکلی اور ویرچوئل طریقے سے منعقد کیا جائے اور مزید اس میں تاخیر نہ ڈالی جائے۔
انہوں نے ابوطالب انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین صباحی کاشانی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا: اس سلسلے میں قابل قدر کام بعض اہم شخصیات کے ذریعے انجام پائے ہیں نیز وافر مقدار میں علمی نشستیں بھی منعقد ہوئی ہیں اور ان میں اچھی گفتگو بھی کی گئی ہے۔ ان کے فوائد مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
جناب ابوطالب سیمینار کے اہداف
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا: اسمبلی کے مقاصد میں سے ایک جناب ابوطالب جیسی شخصیت کو متعارف کروانا ہے۔ لہذا اس سیمینار کے انعقاد کا ایک اہم مقصد اس شخصیت کو دنیا میں پہچنوانا ہے اور اس شخصیت کے بارے میں دقیق مطالعہ اور تحقیق ہے جس کا ماحصل دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: جب تاریخ اسلام کو دیکھتے ہیں تو جناب ابوطالب کا کردار بعثت کے دور میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے، البتہ جناب خدیجہ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا یا اسلام کے سب سے پہلے شہدا جناب یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اور دیگر افراد بھی اپنی جگہ قابل اہمیت ہیں۔ لیکن بعثت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں جناب ابوطالب کا کردار سب سے زیادہ اہم اور ممتاز ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی بڑی شخصیات پہچاننا چاہیے کہا: مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جناب ابوطالب اسلام کے لیے باعث عزت و سربلندی تھے۔
انہوں نے مزید کہا: ابوطالب صدر اسلام کی مظلوم شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہیں گہرائی سے پہچنوانے کی ضرورت ہے ان سے زیادہ مظلوم بعثت کے زمانے میں کوئی نظر نہیں آئے گا۔
جناب ابوطالب سیمینار کے سربراہ نے شکوک و شبہات کو دور کرنا سیمینار کا دوسرا مقصد بیان کیا اور کہا: آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی سے جب ہم نے اس سلسلے میں ملاقات کی اور جناب ابوطالب کے بارے میں ایک فلم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو انہوں نے اس کام کو اہم اور قابل قدر قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: نیز آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے بھی اس سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا اور رہنمائی فرمائی۔
جناب ابوطالب کے اوصاف
آیت اللہ رمضانی نے تاریخ اور روایات کی نگاہ سے جناب ابوطالب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب "موحد"، "مسلمان"، "مومن"، ایمان کے بالاترین درجہ کے فائز، مستجاب الدعوۃ، ولی اللہ، ہدایت یافتہ، گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے، طاہر، مطہر، انبیاء اور اوصیاء الہی کے فرزند، بت پرستی کے دشمن، اہل کرامت، آئندہ حادثات کی نسبت پیش گوئی کرنے والے، حکیم، شجاع، عربوں کے درمیان مقبول، ضعیفوں کے حامی، حد سے زیادہ بخشش کرنے والے، صابر، امانتدار، حکیم، عالم، سیادت سقایت اور قضاوت کے مناصب پر فائز، سید البطحاء ، شیخ الاباطح اور سردار مکہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا: گویا عبد المطلب، ابوطالب اور جناب خدیجہ اللہ کی طرف سے پیغمبر اکرم کی جان کی حفاظت کے لیے مامور ہوئے تھے۔ ابوطالب حقیقی معنی میں مربی تھے اور اس عظیم امانت کے تئیں وہ خود کو امین سمجھتے تھے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب کی پیغمبر اکرم کی نسبت حمایتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: شعب ابی طالب کے دشوارترین اور کٹھن حالات اور سماجی اور معیشتی محاصرے کے دوران کفار چاہتے تھے کہ ابوطالب پیغمبر اکرم کو ان کے حوالے کر دیں، جناب ابوطالب نے قصیدہ لامیہ پڑھا اور اس کے ذریعے اپنے عقائد کو کفار کے لیے بیان کر دیا۔ اگر ہم اس قصیدہ پر نگاہ ڈالیں تو آپ کے ایمان کی بلندیوں کا ادراک کر سکتے ہیں۔ ابوطالب اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں: " سب یہ جان لیں کہ محمد کو ہم جھٹلا نہیں سکتے اور ہم باطل افراد کی باتوں پر کان نہیں دھر سکتے"۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: اس قصیدہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "قصیدہ لامیہ کو حفظ کرو اور اسے اپنے بچوں کو سکھاؤ" یہ قصیدہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب ابوطالب علم و دانش کے مالک تھے مظلوم کا دفاع کرتے تھے اور حق کی پیروی کرتے تھے۔
ابوطالب استقامت و پائیداری کے مصداق اور صبر کے پیکر
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: جناب ابوطالب (ع) خود خواہ اور خود پسند لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور ان کے مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے روز بعثت کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر "تواصی بالحق و الصبر" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ابوطالب نے حق کا دفاع کیا، اور دفاع کی راہ میں صبر و استقامت سے کام لیا، وہ استقامت، پائیداری اور صبر کے واضح مصداق تھے۔ ابوطالب نے ظالموں کے مقابلے میں حق پر بھروسہ کیا اور آسمان ہدایت میں ایک درخشان ستارے میں تبدیل ہو گئے۔
حوزہ علمیہ میں بھی حضرت ابوطالب (ع) کو پہچنوایا نہیں گیا!
آیت اللہ رمضانی نے حضرت ابوطالب کی مظلومیت کے بارے میں کہا: اتنے عظیم صفات کے مالک ہونے اور بے نظیر اثرات کے حامل ہونے کے باوجود حتیٰ حوزہ ہائے علمیہ میں بھی جناب ابوطالب کو پہچنوایا نہیں گیا چہ رسد عام مسلمان پہچان سکیں، لہذا بعض مراجع کا کہنا تھا کہ اس کام میں خود ہم مقصر رہے ہیں۔
انہوں نے اس مظلومیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم جب آٹھ سال کے تھے تو جناب عبد المطلب دنیا سے رخصت ہوئے اور پچاس سال کی عمر تک یعنی ۴۲ سال جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی سرپرستی اور حمایت کی۔ لیکن ان کی مظلومیت یہ ہے کہ لوگ پھر بھی ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو خاندانی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے اتنے بڑے مقام پر فائز ہو اور اوصیاء و اولیائے الہی میں سے شمار ہوتا ہو اس پر کفر کی تہمت لگائی جائے۔ ابوطالب وہ شخص ہیں جنہوں نے ۴۲ سال پیغمبر اکرم کی حمایت سے کوئی دریغ نہیں کیا اور خود کو اور اپنے گھر والوں کو پیغمبر اکرم پر قربان کیا۔
جناب ابوطالب(ع) سیمینار اور وحدت اسلامی
آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں میں وحدت اسلامی پر مبنی زاویہ نگاہ پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سیمینار کا ایک مقصد تاریخ اسلام کا احیاء ہے، لہذا یہ اقدام کسی قوم و مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس سیمینار کے ذریعے ہم نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ ابوطالب جو عالم اسلام کی عظیم شخصیت ہیں اور مذہب تشیع سے مخصوص نہیں ہیں کو بہتر انداز میں پہچانا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اس سیمینار کے اندر خود اتحاد اور ہمدلی کی فضا پائی جاتی ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس سیمینار میں علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ہوں نے اپنا تعاون پیش کیا اس لیے کہ جناب ابوطالب کا تعلق ان شخصیتوں میں سے ہے جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں کسی خاص مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جناب ابوطالب اور آج کا معاشرہ
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں جناب ابوطالب سے زیادہ بانفوذ کوئی شخصیت نہیں تھی کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم آج اپنے معاشرے اور اسلامی انقلاب کے لیے آپ سے درس حاصل کریں۔
انہوں نے کہا: جس طریقے سے انہوں نے بعثت اور پیغمبر اکرم کے مقاصد کے لیے اپنی عزت کو داؤ پر لگایا ہمیں بھی اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانے کی راہ میں اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزاحمت کو عالم اسلام کے لیے جناب ابوطالب کی حیات سے اہم درس قرار دیتے ہوئے کہا: ابوطالب نے ۴۲ سال مزاحمت کی تاکہ پیغمبر اکرم (ص) کی تحریک ثمربخش ثابت ہو سکے، ہمیں بھی سامراج کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے اور اس راہ میں مزاحمت کرنا چاہیے۔

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
5+4=? سیکورٹی کوڈ